(5)
جنگ صفين کے بارے میں
رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی دوسری پیشنگوئی
ابن ديزيل کہتے ہیں: اسماعيل بن ابى اويس نے عبدالملك بن قدامة بن ابراهيم بن حاطب جمحى اور انہوں نے عمرو بن شعيب،انہوں نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے دادا عبداللَّه بن عمرو عاص سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے: پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے مجھ سے فرمایا:
اے عبداللَّه؛اس وقت تم کیا کرو گے جب خوار لوگوں میں باقی بچو اور ان کا عہد و پیمان درہم برہم ہو چکا ہو؟اور آپ نے وہ حالت دکھانے کے لئے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کی ہوئیں تھی۔
میں نے کہا: اے رسول خدا! آپ مجھے اپنے حکم کے بارے میں بتائیں۔
آپ نے فرمایا:تم جسے پسندیدہ سمجھتے ہو اور جانتے ہو اس پر عمل کرو اور جسے برا اور ناپسندیدہ سمجھتے ہو اسے چھوڑ دو اور اس پر عمل نہ کرو اور لوگوں کو ان کے پست کاموں پر چھوڑ دو۔
وہ کہتاہے: جنگ صفين میں اس کے باپ عمروعاص نے اس سے کہا: اے عبداللَّه! میدان میں جاؤ اور جنگ کرو۔
اس نے کہا: باباجان! کیا آپ مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ میں میدان میں جاؤں اور جنگ کرو حالانکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا، آپ نے وہ خود سنا تھا۔
عمروعاص نے کہا: اے عبداللَّه! میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے تم سے جو آخری عہد لیا تھا وہ یہ نہیں تھا کہ انہوں نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر میرے ہاتھ میں دیا اور فرمایا تھا:اپنے باپ کی اطاعت کرو؟
اس نے کہا: جی ہاں! ایسا ہی تھا.
عمرو نے کہا: اب میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ جنگ کے لئے جاؤ۔
عبداللَّه بن عمرو باہر گیا جب کہ اس نے دو تلواریں باندھی ہوئی تھی اور وہ جنگ کرنے لگا.(2506)
2506) جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: 133/3.
منبع: معاويه ج ... ص ...








