امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۱) کعبہ کو نذر آتش کرنا

(۱)

کعبہ کو نذر آتش کرنا

   معروف ہے كه امام حسين ‏عليه السلام کی شہادت کے بعد کوفہ میں حالات خراب اور کشیدہ ہو گئے اور زبردست  قیام عمل میں آئے اور بنی امیہ کی حکومت اس نتیجہ پر پہنچی کہ جب تک بغاوت کرنے والوں کا سختی،سنگدلی اور خشونت سے مقابلہ نہ کیا جائے تو یہ شہر ان کے چنگل سے نکل جائیں گے۔ لہذا انہوں نے عبید اللہ بن زیاد اور حجّاج بن یوسف جیسے اپنے سب سے ظالم اور سنگدل افراد ان پر مسلط کر دیئے جس کی وجہ سے کوفہ پر بدترین ڈکٹیٹرشب حاکم ہو گئی۔ (286).(287)

یہ واضح و بدیہی ہے کہ بنی امیہ کے حاکموں میں یزید سب سے زیادہ خائن تھا اور اس نے جو ظلم و ستم کئے وہ بنی امیہ میں سے کسی نے انجام نہیں دیئے۔

   سید الشہداء حضرت امام حسين ‏عليه السلام کے بعد كعبه کو نذر آتش کرنے اور واقعۂ حرّه سے بہت سی مسلم اقوام و ملل  پر یہ آشکار ہو گیا کہ بنی امیہ نہ صرف رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے جانشین نہیں ہیں بلکہ دین اور اہلبیت پیغمبر علیہم السلام کے بھی دشمن ہیں۔

  لوگوں میں پھیلنے والی باتوں اور مختلف تحریکوں نے بنی امیہ کی حکومت کے لئے خطرہ کی گھنٹی بجا دی اور انہیں وحشت زدہ کر دیا۔

اس لئے بنی امیہ نے لوگوں کو رام کرنے کے لئے کچھ امور نافذ کئے، کوفہ ایسے حالات اور تحوّلات کا مرکز تھا۔ کوفہ میں ان تحوّلات کی سرکوبی کرنے کے لئے ظالم افراد جیسے ابن زیاد اور حجّاج کو ان شہروں کا حاکم بنا دیا گیا۔

لوگوں کے اعتراضات کو خاموش کرنے کے لئے مرجئہ گری جیسے نظریات کی ترویج کی گئی اور مختلف علاقوں میں ان نظریات کی تبلیغ کی گئی اور لوگوں کو مرجئہ عقائد کا معتقد بنایا گیا۔


286) وقعة صفّين: 319.

287) تاريخ طبرى: 38/5.

 

منبع: کتاب معاویه ج ... ص ...

 

بازدید : 814