امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
عمر کی ابوبکر سے دشمنی کی ایک اور دلیل

عمر کی ابوبکر سے دشمنی کی ایک اور دلیل

اب ہم جو واقعہ ذکر کر رہے ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صرف ابو موسیٰ اشعری اور مغیرہ ہی ابوبکر کے سلسلہ میں عمر کے بغض و کینہ سے باخبر نہیں تھے بلکہ دوسرے افراد بھی اس سے آگاہ تھے اور انہوں نے عمر کی ابوبکر سے دشمنی کے کچھ موارد نقل کئے ہیں۔   

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:هیثم بن عدی  نے مجالد بن سعید [1] سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا ۔ایک دن چاشت کے وقت میں شعبی کے پاس گیا اور میں اس سے ابن مسعود کی اس بات کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا  کہ  جو ان کی طرف منسوب کر کے مجھ سے  نقل کی گئی تھی۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ قبیلے کی مسجد میں ہے اور کچھ دوسرے لوگ بھی اس کے منتظر تھے۔ جب وہ آیا تو میں نے اپنا تعارف کروایا اور کہا: خدا تمہارے امور  کو درست فرمائے، کیا ابن مسعود یہ کہا کرتے تھے کہ جب بھی میں کسی قوم کے سامنے کوئی حدیث یا بات بیان کرتا تھا جس تک ان کی عقل کی رسائی نہیں ہوتی تھی تو وہ ان کے لئے فتنہ بن جاتی تھی؟

اس نے کہا: ہاں!عبدالله بن مسعود ایسا ہی کہا کرتے تھے، اور عبدالله بن عباس بھی یہی بات کہا کرتے تھے اور ابنِ عباس کے پاس علم کے خزانے تھے، جنہیں وہ ان لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے جو اس کے اہل ہوتے، اور دوسروں سے چھپاتے تھے۔

میں اور شعبی بات کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں ازد قبیلہ کا ایک آدمی آیا اور ہمارے پاس بیٹھ گیا۔ ہم نے ابوبکر اور عمر کے بارے میں گفتگو شروع کی۔ شعبی ہنسے اور کہا: عمر کے دل میں ابوبکر کے خلاف ایک طرح کا کینہ موجود تھا۔ اس ازدی شخص نے کہا: خدا کی قسم! ہم نے نہ دیکھا اور نہ سنا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے مقابلے میں اتنا زیادہ فرمانبردار اور خوش گفتار ہو جتنا عمر، ابوبکر کے مقابلے میں تھا!

شعبی نے میری طرف دیکھا اور کہا: یہ جو جواب میں اسے دے رہا ہوں، یہی ان باتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ پھر اس نے اس شخص کی طرف رخ کیا اور کہا: اے ازدی بھائی! پھر تم عمر کے اس قول کے بارے میں کیا کہتے ہو کہ یہ ایک لغزش تھی ، خداوند اس کے شرّسے بچائے؟ کیا تم نے کبھی کسی دشمن کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے دشمن کے بارے میں(جب وہ اس چیز کو گرانا چاہے جو اس نے خود اپنے لئے بنائی ہو اور لوگوں میں اس کی حیثیت کو متزلزل کرنا چاہے)اس سے زیادہ سخت بات کہے جتنی عمر نے ابوبکر کے بارے میں کہی؟

اس شخص نے حیرت سے کہا: سبحان الله، اے ابوعمر! کیا تم ایسا کہتے ہو؟

شعبی نے کہا: تعجب ہے! کیا یہ بات میں کہہ رہا ہوں؟ عمر نے یہ بات سب کے سامنے کہی ہے! اب چاہو تو اس پر اعتراض کرو، چاہو تو اسے چھوڑ دو۔

وہ آدمی غصّے میں اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے آپ سے کچھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا، جس کا مفہوم واضح نہ تھا اور میں نہ سمجھ سکا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔

مجالد کہتے ہیں: میں نے شعبی سے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ شخص جلد ہی اس بات کو تمہاری طرف منسوب کر کے لوگوں میں بیان کرے گا اور اسے پھیلا دے گا۔

انہوں نے کہا: خدا کی قسم! مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ، کیونکہ عمر نے مہاجرین اور انصار کے سامنے جو بات کہنے سے پرہیز نہیں کیا، کیا میں اس سے پرہیز کروں؟ تم بھی جس طرح چاہو اس بات کو میری طرف سے نقل کرو۔ [2]

 


[1] ۔  مجالد بن سعيد همدانى كوفى ہیں . بخارى کا بیان ہے: يحيى بن سعيد  اسے ضعیف شمار کرتے تھے اور ابن مهدى  اس سے کوئی چیز نقل نہیں کرتے تھے  اور  احمد بن حنبل نے بھی اسے اہم نہیں سمجھا ہے.ابن معين کہتے ہیں:وہ  ضعيف ہے اور ان سے بے بنیاد احاديث ہیں.ان کا ۱۴۴ ھ میں انتقال ہوا ۔ تهذيب التهذيب : ۱۰/ ۳۹.

[2] ۔ جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغہ ابن ابى الحديد:۱/ ۲۰۲.

بازدید : 21