(3)
معاويه کے مظالم
معاويه کے ظلم و ستم کو بیان کرنے کے لئے یہی کافی ہے اس نے امام حسن علیہ السلام (جو اپنے زمانے میں خاندان عصمت و طہارت کے سردار اور اپنے والد گرامی کے بعد امام تھے)کواس زہر کے زریعہ شہید کروایا جو اس نے آنحضرت کی زوجہ «جعده» بنت اشعث بن قيس کے لئےبھیجا تھا۔اس بارے میں عترت طاہرہ سے متواتر روایات ہیں اور سنّى مورّخین کے ایک گروہ نے بھی اس کا اعتراف کیاہے۔
ابن ابى الحديد(1) نےابوالحسن مدائنى سے روایت کی ہے کہ امام حسن مجتبى عليه السلام کی وفات سن 49 هجرى میں ہوئی ،آنحضرت چالیس دن تک بیمار تھے اور آپ کا سن مبارک 47 سال تھا. معاويه نے جعدہ بنت اشعث بن قيس کے لئے زہر بھیا اور کہا: اگرتم نے حسن کو قتل کر دیا تو میں تمہیں ایک لاکھ درہم دوں گا اور یزید سے تمہاری شادی بھی کروں گا۔
جب امام حسن عليه السلام شہید ہوگئے تو معاويه نے یہ رقم اس کے لئے بھجی لیکن یشید سے اس کی شادی نہ کروائی اور کہا:
«میں ڈرتا ہوں کہ تم نے جو کچھ پیغمبر کے بیٹے حسن کے ساتھ کیا وہی میرے بیٹے کے ساتھ نہ کرو! ».
نيز مدائنى نےحصين بن منذر قاشى(2) سےروايت کی ہے کہ اس سنے کہا: خدا کی قسم؛ معاويه نےحسن سے کئے گئے صلح کے عهدنامه مں جو کچھ کہا اس پر عمل نہیں کیا بلکہ اس نے جناب حجر بن عدى اور آنحضرت کے اصحاب کو قتل کیا اور اپنے بیٹے یزید کے لئےبیعت لی اور حسن کو زہر دے دی۔!!
ابوالفرج اصفهانى مروانى نےكتاب «مقاتل الطالبيين» میں لکھا ہے: معاويه اپنے بیٹے یزید کے لئے بیعت لینا چاہتا تھا اور اس راہ حسن بن على عليهما السلام اور سعد وقّاص سے بڑی کوئی مشکل نہیں تھی اس لئےاس نے دونوں کو زہر دے دی جس کی وجہ سے وہ وفات پاگئے۔
ابن عبدالبر نے «استيعاب»میں امام حسن عليه السلام کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئےقتاده و ابوبكر بن حفص سےروايت کی ہے کہ: اشعث بن قيس کی بیٹی نے امام حسن بن على عليهما السلام کو زہر دیا۔اوربعض کہتے ہیں: اس نے یہ کام معاويه کے کہنے پر کیا.
سب جانتے ہیں کہ معاويه نے شام میں »مَرَج عذرا« نام کے مقام پر کس طرح معروف صحابی حجر ابن عدى كندى اور ان کے یاران کو على عليه السلام پرلعن نہ کرنے کے جرم میں قتل کیا۔انہیں سن51 هجرى میں قتل کیا گیا۔اس زمانے میں موجود صحابہ ، تابعین اور ان کے بعددوسری عقلمند شخصیات نے معاويه کے اس عمل کی مذمت کی اور اس پر اعتراض کیا۔اس سال کے واقات لکھنے والے تمام مورخین نے اس بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
میں نہیں سمجھتا کہ قارئیں میں سے کوئی بھی معاويه کے ذریعہ مشہور عابد و پارساعمرو بن حمق خزاعى کے قتل کو بھول جائے ۔ اسلام میں کٹے ہوئےسروں میں سب سے پہلےان کا سر حمل کیا گیا۔
عمرو بن حمق ،پيغمبراکرم صلى الله عليه وآله وسلم کے بزرگ اصحاب میں سے تھے اور محبت على عليه السلام کے علاوہ ان کا کوئی جرم نہیں تھا چونکہ على عليه السلام خدا و پيغمبر کو دوست رکھتے تھے اور خدا و پيغمبر بھی ان کو دوست رکھتے تھے۔
معاويه نے محبان خدا کو قتل کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اپنے نزدیک ترین افراد اور اپنے خواص کو بھی قتل کیا۔
اس نے عبدالرحمن بن خالد بن وليد کو بھی قتل کیا جو صفین میں اس کے ساتھ مل کر لڑا اور جس نے اميرالمؤمنين علی عليه السلام سے دشمنی کا ہد و پیمان کیا ہوا تھا!۔
معاويه نے اسےاس لئے قتل کر دیا کہ کہیں لوگ یزید کو چھوڑ کر اسے خلیفہ نہ بنا دیں۔اس کا واقعہ بھی مورّخین کے نزدیک مشہور ہے اور سیرت لکھنے والوں نے اسے بھی قلمبند کیا ہے۔(3).( 4)
1) شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: 4/4 (ط مصر).
2) شرح نهج البلاغه میں ابن ابی الحدید سے منقول: 70/4.
3) اس واقعہ کی تفصیل کے لئے كتاب استيعاب کی طرف رجوع کریں.
4) اجتهاد در مقابل نص: 556.
منبع: معاويه ج ... ص ...








