(2)
بهشت و جهنم
حضرت زهراء سلام الله عليها کا حق مہر
شيخ طوسى قدس سره نےكتاب «امالى» میں امام صادق عليه السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
إنّ اللَّه أمهر فاطمة ربع الدنيا، فربعها لها وأمهرها الجنّة والنار، تدخل أعداءها النار وتدخل أولياءها الجنّة، وهي الصدّيقة الكبرى وعلى معرفتها دارت القرون الاُولى.(1)
خداوند تبارك و تعالى حضرت زهرا عليها السلام کا مہر دنیا کا چوتھائی حصہ رکھا ہے،پس اس کا چوتھا حصہ حضرت زهرا عليها السلام ہے اور بهشت و جهنّم کو ان کا مہر قرار دیا ہے، اور آنحضرت (جناب سیدہ سلام اللہ علیھا) اپنے دشمنوں کو جہنم اور اپنے محبوں اور دوستوں کو جنت میں داخل کریں گی اور یہ سب سے زیادہ سچی ہیں،اور ان کی معرفت پر گذشتگان کی فکر کا محور ہے۔
مؤلّف رحمه الله کہتے ہیں : اميرالمؤمنين عليه السلام نے آنحضرت کے جہیز کوعرش الهى تلےمشاهده كیا اور ان کا عقد خدا نے پڑھا۔
1) امالى طوسى : 668 ح 6 مجلس 36، بحار الأنوار : 105/43 ح 18.
منبع: قطره اي از درياي فضائل اهل بيت عليهم السلام :ج 1 ص 412








