امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
حضرت عبدالعظيم حسنى علیه السلام کی ولادت

 ۴ ربيع الثاني:  احفاد امام حسن مجتبى علیه السلام میں سے حضرت عبدالعظيم حسنى علیه السلام کی ولادت جو کہ شهر رى میں مدفون ہیں (۱۷۳ ھ)

******************************************

 حضرت عبدالعظيم حسنى علیه السلام، امام حسن مجتبى علیه السلام کی  آل  میں  سے  ہیں. ان  کی ولادت چهارم ربيع الثاني کو نقل ہوئی

آپ  سن 173 ق کو شهر ري میں  اس دنيا سے  کوچ  فرما  گئے  اور  وہیں  مدفون  ہوءے۔اہلبیت  علیہم  السلام  کے  محبوں  کے  لئے آپ  کی  قبر  مطہر  زیارتگاہ  ہے۔

اب  ہم امام  زمانہ  عجل  اللہ  فرجہ  الشریف  کی  آفاقی  و عالمی  حکومت  کے  انتظارکے  بارے میں  جناب حضرت عبدالعظيم حسني  کا  وہ  کلام نقل  کرتے  ہیں  کہ  جو حضرت جواد الائمّه عليه السلام سے  نقل  ہوا  ہے۔

    حضرت عبدالعظيم حسنى عليه السلام فرماتے  ہیں:

میں اپنے مولاحضرت امام محمدتقی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوااورمیرا ارادہ تھا کہ میں آنحضرت سے قائم آل محمد علیہم السلام کے متعلق سوال کروں  کہ کیا وہی مہدی ہیں یا کوئی دوسرا ہے؟ قبل اس کے کہ میں کچھ کہتا حضرت نے فرمایا:

 يا أباالقاسم ؛ إنّ القائم منّا هو المهديّ الّذي يجب أن ينتظر في غيبته ويطاع في ظهوره وهو الثالث من ولْدي ، والّذي بَعَث محمّداً بالنّبوّة وخصّنا بالإمامة أنّه لو لم يبق من الدّنيا إلّا يوم واحد لطوّل اللَّه ذلك اليوم حتّى يخرج فيملأ الأرض قسطاً وعدلاً كما ملئت جوراً وظلماً وإنّ اللَّه تبارك وتعالى يصلح أمره في ليلة كما أصلح أمر كليمه موسى عليه السلام ليقتبس لأهله ناراً فرجع وهو رسول نبيّ .

اے ابالقاسم! ہم آل محمد  علیہم السلام کے قائم،حضرت مہدی  ہیں کہ غیبت کے زمانہ میںان کاانتظار اور ظہور کے زمانہ میں ان کی اطاعت واجب ہے۔ وہ ہماری نسل میں تیسرے فرد ہیں ۔

 اس ذات کی قسم! جس نے محمدۖ  کونبی مبعوث فرمایا او رمقام امامت کوہم سے مخصوص کیا اگر دنیا صرف ایک روز کے لئے باقی بچے تو پروردگار عالم اس دن کو طولانی کردے گااور وہ ظہور کریں گے اور زمین کوقسط و عدل سے بھر دیں گے جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

 پرور دگار عالم اپنے امر کی اصلاح ایک شب میں کرے گا بالکل اسی طرح جیسے اپنے کلیم حضرت موسی علیہ السلام کے امر کی اصلاح فرمائی وہ اپنے اہل و عیال کے لئے آگ لینے گئے لیکن جب پلٹے تو ان کے پاس مقام نبوت و رسالت تھا ۔

 اورپھر اس وقت حضرت محمد تقی  علیہ السلام نے فرمایا :

أفضل أعمال شيعتنا إنتظار الفرج .

ہمارے شیعوں  کا سب سے  بافضیلت عمل انتظار فرج ہے۔

 

----------------------------------------------------

صحيفهٔ مهديه : مقدّمه / بحث انتظار / 89.

 

 

بازدید : 1021