(1)
حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام
کی عظمت و بلندی کا ایک مختصر جائزہ
اگر کسی کو حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی زیارت نصیب ہو اور وہ ان کے مقام ولایت کی معرفت رکھتا ہو اور معرفت کے ساتھ آنحضرت کی زیارت کرے تو اس پر جنت واجب ہو گی۔
حضرت امام رضا علیہ السلام کے اس فرمان''جو حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کے مقام کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے تو اس پر جنت واجب ہے''کا معنی یہ ہے کہ حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کا مقام اس قدر اہم اور فیض رساںہے کہ زائر آپ کے عظیم مقام کی معرفت کے ساتھ زیارت پڑھنے سے مقام ولایت کے محکم قلعہ میں داخل ہو جاتاہے اور یوں وہ جہنم کی آگ سے محفوظ ہو جاتا ہے اور بہشت بریں میں اپنا مقام بنا لیتا ہے۔
کائنات کی اس عظیم خاتون کے مقام کی عظمت کی معرفت رکھنے والے زائرین جنت کے باغات میں جانے کے مستحق ہیں ۔ کیونکہ آگاہی و معرفت کی وجہ سے خدا کے نزدیک ان کی زیارت مورد قبول ہے۔
حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی ملکوتی بارگاہ میں کچھ ایسے زائرین بھی ہوتے ہیں کہ جو ان کے اعلیٰ مقام سے آشنا نہیں ہوتے لیکن وہ اہلبیت اطہار علیھم السلام سے عقیدت و محبت کی بنا پر خود کو اس بارگاہ تک پہنچاتے ہیں اور شرمساری و شرمندگی کی حالت میں کائنات کی اس عظیم خاتون سے جنت میں داخل ہونے کی دعا کرتے ہیں اور وہ حضرت معصومہ علیھا السلام کی شفاعت سے جنت کے راہی بن جاتے ہیں۔
اس بناء پر یہ گروہ بھی پہلے گروہ کی طرح حضرت معصومہ علیھا السلام سے یہ ہی چاہتا ہے وہ حضرت معصومہ علیھا السلام کی شفاعت سے جنت میں داخل ہو سکیں۔
ہر دن دور اور نزدیک سے ہزاروں افراد حضرت فاطمہ معصومہ علیھا السلام کی زیارت سے شرفیاب ہوتے ہیں اور ہر سال کئی ملین افرادآپ کی زیارت کرتے ہیں،لیکن اتنی بڑی تعداد میں سے کتنے افراد حضرت فاطمہ معصومہ علیھا السلام کی شخصیت و عظمت سے آگاہ ہیں؟کتنے لوگ اس عظیم بی بی کی قدرت ولایت سے آشنا ہیں؟
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ معصومہ علیھا السلام کی باعظمت شفیعۂ روز جزاء جیسی شخصیت کو شیعہ معاشرے میں اس طرح سے نہیں پہچانا گیا کہ جس طرح پہچاننے کا حق تھا۔
فخر الواعظین مرحوم سید محمد باقر خلخالی کتاب(جنّات ثمانیة:٨٥٨)مورّخ نامی مرحوم سپہر (ناسخ التواریخ:٣٣٧) میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی فضیلت کے بارے میں فرمایا ہے:
من زار المعصومة بقم (في قم) كمن زارني.
جو (میری بہن) معصومہ کی قم میں زیارت کرے گویا اس نے میری زیارت کی ہو۔
اس روایت سے بخوبی حضرت فاطمہ معصومہ علیھا السلام کی شخصیت کی عظمت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
قیامت کے دن جناب فاطمہ معصومہ علیھا السلام کی شخصیت کے کردارکے بارے میں روایت پر غور کرکے ہم کسی حد تک ان کے بلند مقام اور ان کی شان کا اندازہ لگا سکتے ہیں:
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
... وتدخل بشفاعتها شيعتي الجنّة بأجمعهم.(3)
ان (حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام )کی شفاعت کے ذریعہ میرے تمام شیعہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔
اس بناء پر قیامت کے دن لوگوں کا ہجوم حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی شفاعت و وساطت سے جنت کے آٹھ دروازوں کی طرف روانہ ہوگا۔
ہم سب اس عظیم اور صاحب شان خاتوں کی زیارت میں ان کی زیارت میں پڑھتے ہیں:
يا فاطمة؛ إشفعي لي في الجنّة.
اے فاطمہ علیھا السلام !میرے لئے جنت کی شفاعت فرمائیں۔
1) جنّات ثمانية: 858.
2) ناسخ التواريخ: 33/7.
3) سفينة البحار: مادّه «فطم».
منبع: صحيفه رضويه ص 553








