امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(2) حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی شفاعت کرنے کے بارے میں ایک اہم نکتہ

(2)

حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی شفاعت

کرنے کے بارے میں ایک اہم نکتہ

یہاں حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی شیعوں اور محبوں کے لئے شفاعت کے بارے میں ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہیں۔

حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام دو جہات سے عظیم معنوی شخصیت رکھتی ہیں۔

١۔حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کا آئمہ اطہار علیھم السلام سے انتساب اور ان کا معصومین علیھم السلام سے نزدیکی نسب، کیونکہ حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام امام کی بیٹی ،امام کی بہن، امام کی پھوپھی ، امام کی نواسی اور....ہیں۔ہم ان کی زیارت میں پڑھتے ہیں:

اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ ... اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ.

٢۔ حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام معصومین علیھم السلام سے ظاہری نسبت  اور قرب کے علاوہ ان کا معصومین علیھم السلام سے معنوی قرب بھی قابل غور ہے۔

یہ نکتہ توجہ اور دقت کے قابل ہے کہ عظیم الشأں امامزادوں میں قرب نسبی اور ظاہری کے لحاظ سے بہت سے افراد حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی مانند ہیں،لیکن قرب معنوی اور باعظمت روحانی شخصیت کے لحاظ سے کوئی بھی  حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی مانند نہیں ہے۔

اب قابل غور نکتہ یہ ہے کہ حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کا یہی معنوی قرب اور باطنی مقام ان کے مقام شفاعت کا سبب ہے۔

 حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام  کی زیارت اوران کی شخصیت کے بارے میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے فرامین پر غور کرنے سے ہم اس حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں کہ حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام خاندان عصمت و ولایت علیھم السلام کے ساتھ انتساب کے لحاظ سے عظیم معنوی شخصیت کے علاوہ خود بھی مقام ولایت رکھتی ہیں۔

حضرت امام رضا علیہ السلام نے ان کی معصومین علیھم السلام سے نسبت کو بیان فرمایا تا کہ سب سمجھ جائیں کہ  حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام شفاعت کے عظیم مقام کی مالک ہیں۔یہ نکتہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ جناب معصومہ علیھا السلام کاصرف آئمہ اطہار علیھم السلام سے نزدیکی رشتہ ہے بلکہ یہ حکم دیا گیا کہ زائرین یوں کہیں:

«يا فاطمة؛ اشفعي لى في الجنّة»

اور حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام سے شفاعت کا تقاضا کریں۔

 نیز یہ نکتہ بھی توجہ کے قابل ہے کہ یہ جملہ''یا بنت رسول اللّٰہ '' یا پھر'' یا بنت امیر المؤمنین''سے شروع نہیں ہوا کہ زائرین اس وجہ سے ان سے شفاعت طلب کریں ، کیونکہ یہ رسول اکرم ۖ کی بیٹی یا امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیٹی ہیں،بلکہ اس جملہ؛«يا فاطمة؛ اشفعي لى » کے ذریعہ خود جناب معصومہ علیھا السلام سے شفاعت طلب کی گئی ہے۔حضرت امام رضا علیہ السلام نے اس تعبیر میں جو لطافت استعمال کی ہے  اور اس کے ذریعہ انہوں نے ہمیں یہ سمجھا دیا ہے کہ ان کا سب کے لئے شفاعت جیسا عظیم مقام صرف خاندان وحی علیھم السلام سے انتساب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ عظیم خاتوں خود شخصاً یہ مقام رکھتی ہیں۔

اس حقیقت کو مزید آشکار کرنے کے لئے زیارت کے کچھ اور جملوں کوبیان کرتے ہیں۔

 «فإنّ لكِ عنداللَّه شأناً من الشّأن»

یہ جملہ اس حقیقت وواقعیت کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام  خدا کے نزدیک قرب الٰہی  اور ولایت کی شان کی مالک ہیں۔

اس بناء پر جیسا کہ ہم اس زیارت میں دیکھتے ہیں کہ زیارت میں رسول خدا ۖ کی بیٹی ، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیٹی یا امام کی بہن اور پھوپھی جیسے جملات سے  حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام  کی توصیف بیان کی گئی ہے۔ لیکن جب ان سے شفاعت کی درخواست کا مرحلہ آتا ہے تو زیارت کی تعبیر بدل جاتی ہے اور گذشتہ عبارات کی بجائے  حضرت فاطمۂ معصومہ علیھاالسلام کا نام لیا جاتا ہے اور آپ کا نام لے کر آپ سے شفاعت اور جنت میں داخل ہونے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔

جس طرح  حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام  قیامت کے دن لوگوں کو قیامت کے پرخطر واقعہ سے نجات دلا کر انہیں جنت کی طرف بھیجیںگی اسی طرح  غیبت  کے زمانہ میں بھی یہ شان و منزلت رکھتی ہیں کہ وہ لوگوں کو زمانۂ غیبت کی مشکلات سے نجات دلائیں  اور خدا کی بارگاہ میں مقام شفاعت  کی وجہ سے سب کو مشکلات اور مصائب سے نجات دلائیں اور یہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے واسطہ بنیں۔

یہ واضح سی بات ہے کہ جب حضرت معصومہ علیھم السلام یہ مقام و منزلت رکھتی ہیں تو پھر چودہ معصومین علیھم السلام بدرجہ ٔ اولیٰ یہ مقام رکھتے ہیں۔

اس بناء پر زائرین پر لازم ہے کہ  وہ اس نکتہ پر توجہ کریں کہ جب باعظمت معنوی مقامات سے مشرّف ہوں تو فقط اپنی نجات کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا اور دنیا والوں کی نجات اور کائنات پر ولایت کی شمع کے روشن ہونے کے لئے بھی دعا کریں  اور اس درخواست کو اپنی بنیادی اور سب سے اہم حاجت قرار دیں تاکہ انشاء اللہ حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف   کی آفاقی حکومت  کے شاہد بن سکیں اور اسی دنیا میں بہشت موعود کا نظارہ کر سکیں۔

 

منبع: صحيفه رضويه ص ۵۵۵

 

 

بازدید : 1195