حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
ایک دوسری روایت کے مطابق عمروعاص کے اشعار

ایک دوسری روایت کے مطابق عمروعاص کے اشعار

ایک دن معاویہ نے اپنے درباری شاعروں سے کہا: تم میں سے ہر ایک علی( علیہ السلام) کی مدح میں ایک قصیدہ لکھے، پھر میں تمہارے درمیان مقابلہ کرواؤں گا۔ جو بھی جیتے گا، اس کے ہر شعر کے بدلے ایک ہزار دینار انعام دیا جائے گا۔

اس مجلس میں عمرو بن عاص کے سات اشعار قبول کئے گئے، اور اسے ہر شعر کے بدلے ایک ہزار مثقال سونا دیا گیا۔

کچھ عرصے بعد امام حسن علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے عمرو! ہر شعر کے بدلے تمہیں جنت میں ایک محل دیا جائے گا، کیا تم اپنے وہ سات شعر اور جنت کا محل سات ہزار دینار کے عوض مجھے فروخت کرتے ہو؟

عمرو نے کہا: میں راضی ہوں۔ اور حضرت نے اسے خرید لیا۔ پھر وہ اشعار یہ تھے:

هو النّبأ العظیم وفلک نوح         وباب الله إذا انقطع الخطاب

وهم حجج الله علی البرایا         بهم وبجدّهم لایسترأب

ولاسیما ابوحسن علی              له فی الحرب مرتبة تهاب

وضربته کبیعته بخم                 معاقدها من القوم الرقّاب

علی الدرّ والذهب المصفّا         وباقی الناس کلّهم التراب

هو البکاء فی المحراب لیلا         هو الضحّاک إذا اشتدّ الضراب[1]

 


[1] ۔ دائرة المعارف علوى :۱۰۰.

مراجعین : 58