غیر شیعہ علماء کا عمر بن خطاب سے قصاص کے جواز کا فتویٰ
کتاب ’’بیت الأحزان‘‘[1]میں مذکور ہے کہ ابن ابی الحدید ’’ہبار بن اسود‘‘ کے بارے میں ایک روایت نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فتحِ مکہ کے دن ہبار بن اسود کا خون مباح قرار دیا تھا، کیونکہ ہبار نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی زینب کو نیزہ دکھا کر خوفزدہ کیا تھا۔ زینب ایک کجاوے میں سفر کر رہی تھیں اور حاملہ تھیں، چنانچہ اس خوف کے باعث ان کا بچہ ساقط ہو گیا۔
پھر ابن ابی الحدید کہتے ہیں: میں نے یہ روایت اپنے استاد ابوجعفر نقیب کو پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے کہا:جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی بیٹی زینب کو خوفزدہ کرنے والے ہبار کا خون، اس وجہ سے کہ اس کے سبب ان کا حمل ساقط ہو گیا تھا، مباح قرار دیتے ہیں، تو اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم زندہ ہوتے، تو وہ اس شخص (عمر) کا خون بھی مباح قرار دیتے جس نے آپ کی دوسری بیٹی حضرت فاطمہ سلام الله علیها کو ڈرایا، اور ان کے فرزند (محسن بن علی علیہماالسلام) کے سقط کا سبب بنا۔
ابن ابی الحدید کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے پوچھا: کیا میں یہ بات آپ سے روایت کر سکتا ہوں؟انہوں نے کہا: روایت کرو، لیکن میری طرف نسبت دے کر نہیں۔[2]








