زیاد کا شیعیان علی علیه السلام کو بلانا
روایت ہے کہ زیاد نے ایسے لوگوں کو بلایا جن کے بارے میں اسے بتایا گیا تھا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے شیعہ ہیں تاکہ وہ انہیں یا تو حضرت علی علیہ السلام پر لعنت کرنے اور ان سے برائت اختیار کرنے پر مجبور کرے، یا انہیں قتل کر دے۔ یہ ستر افراد تھے۔
زیاد منبر پر چڑھا اور دھمکی آمیز انداز میں خطاب کرنا شروع کیا۔ وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص سو گیا۔[1]اس کے ساتھی نے اس سے کہا: تمہیں تو قتل کے لئے بلایا گیا ہے، اور تم سو رہے ہو!
اس نے کہا: ایک ستون سے دوسرے ستون تک سکون ہے۔ پھر اس نے کہا: میں اب سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے۔
لوگوں نے پوچھا: کیا دیکھا؟
اس نے کہا: میں نے ایک سیاہ آدمی کو دیکھا جو مسجد میں داخل ہوا اور اس کا سر چھت سے ٹکرا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟
اس نے کہا: میں نقاد ہوں یعنی گردنیں کاٹنے والا ہوں۔
میں نے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟
اس نے کہا: اس ظالم کی گردن توڑنے جا رہا ہوں جو ان لکڑیوں (منبر) پر کھڑا ہو کر بول رہا ہے۔
اسی دوران جب زیاد منبر پر خطبہ دے رہا تھا تو اچانک اس نے اپنی انگلی پکڑی اور چیخ کر کہا: ہائے میری انگلی! اور وہ منبر سے گر پڑا اور بے ہوش ہو گیا۔ اسے محل میں لے جایا گیا، کیونکہ اس کی دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں طاعون کی بیماری ظاہر ہو گئی تھی۔
اس نے طبیب کو بلایا اور کہا: میری انگلی کاٹ دو۔طبیب نے کہا: اے امیر! مجھے بتاؤ کہ درد تمہیں ہاتھ میں ہو رہا ہے یا دل میں؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! صرف دل میں۔
طبیب نے کہا: پھر تم زندہ سلامت ہو۔
جب زیاد کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے معاویہ کو خط لکھا اور کہا: میں نے یہ خط امیرالمؤمنین کو اس وقت لکھا ہے جب میں دنیا کا آخر دن گزار رہا ہوں اور آخرت کے پہلے دن کی طرف جا رہا ہوں، اور میں نے خالد بن عبد اللہ بن خالد بن اسید کو اپنی جگہ مقرر کر دیا ہے۔
جب زیاد ہلاک ہو گیا اور اس کا جنازہ نماز کے لئے رکھا گیا تو اس کا بیٹا عبید اللہ آگے بڑھا، لیکن خالد بن عبد اللہ نے اسے ہٹا دیا اور خود اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔[2]
اب جبکہ آپ زیاد کے انجام سے آگاہ ہو چکے ہیں تو مناسب ہے کہ معاویہ کی زندگی کے آخری دنوں اور اس کے آخری وقت کی پشیمانی سے بھی آگاہ ہو جائیں۔
[1] ۔ «المجالس» میں شیخ مفید ، «تاریخ ابن عساکر »میں (ج۵،ص ۴۲۱) میں عبدالرحمن بن سائب اور «کنز» میں کراجکی کی کثیر بن صلت کی روایت کے مطابق اس نے اپنا خواب بھی شعر کی صورت میں بیان کیا :ما کان منتهیا عما اراد بنا حتی تناوله النقاد ذو الرقبه فاثبت الشق منه ضربة ثبتت کما تناول ظلما صاحب الرحبه. وہ ہمارے خلاف اپنے ارادے سے باز نہ آیا، یہاں تک کہ’’نقّاد ذو الرقبة‘‘ نے اسے جا لیا، اور اس کا ایک حصہ ضرب سے ثابت ہو گیا، جیسے کسی نے ظلم کے ساتھ اسے’’صاحب الرحبہ‘‘ کی طرح پکڑ لیا ہو۔
[2] ۔ ترجمۀ تاریخ یعقوبی : ۲/۱۷۰.








