معاویہ کی موت کے بعد عمرو عاص کے ساتھ اس کی مکاری
جب معاویہ کی موت کا وقت قریب آیا تو یزید لعین نے عمرو بن عاص کو بلایا اور اسے اپنے باپ کی وصیت سنائی۔ اس نے کہا: میرے باپ نے یہ کہا ہے کہ ہماری زندگی میں ہمارے درمیان جو دوستی اور محبت قائم تھی، اس کے حق میں یہ مہربانی کرو کہ سفرِ آخرت میں میری مدد کرو اور اپنے ہاتھ سے مجھے قبر میں اتارو تاکہ تمہارے مبارک ہاتھ کی برکت سے یہ پہلا ٹھکانہ میرے لئے آسان ہو جائے کہ جو خاموش لوگوں کی جگہ اور کفن پوشوں کا مقام ہے !
عمرو عاص رونے لگا۔ پھر معاویہ کو لایا گیا اور عمرو قبر میں اترا اور معاویہ کو لحد میں سیدھا رکھا۔ جب دفن کے کام سے فارغ ہوا اور باہر نکلنا چاہا تو یزید نے تلوار کھینچ لی اور کہا: پہلے بیعت کرو، پھر یہاں سے نکلنا!
عمرو نے جب یہ حالت دیکھی تو سمجھ گیا کہ یزید کی عقل اس نکتے تک نہیں پہنچتی، پھر اس نے معاویہ کے جسد کی طرف رخ کر کے کہا:
أتمکرُ أنت وأنا فی هذه الحالة مردّد؟[1]
کیا تو اس حالت میں بھی مجھے دھوکہ دے رہا ہے؟








