مغیرہ کا معاویہ کے راز فاش کرنا
ابن تیمیہ کے ممتاز شاگردوں میں سے ابن قیم جوزیہ نے لکھا ہے کہ معاویہ فتح مکہ کے بعد (ظاہری طور پر) اسلام لایا۔ اس کے علاوہ بنی امیہ کے حامی سیاستدانوں میں سے مغیرہ نے معاویہ کے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے کہ جس نے معاویہ کے لئے کوئی قابلِ عزت دینی یا اخلاقی پہلو باقی نہیں چھوڑا ہے ۔ اس کی تاریخی روایت ہمیں معاویہ کے اسلام لانے کے بارے میں مزید بحث و مباحثہ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
مغیرہ نےنقل کیا ہے کہ ایک خصوصی مجلس میں معاویہ نے اس سے کہا: خدا کی قسم! جب تک میں زندہ ہوں، میں کوشش کروں گا کہ ’’محمد‘‘ کا نام دفن کر دوں اور اسے مٹا دوں۔
اب اس روایت کے بعد کیا فرق پڑتا ہے کہ معاویہ نے ہجرت کے پہلے سال اسلام قبول کیا یا فتح مکہ کے بعد! اس نے جس وقت بھی اسلام قبول کیا تھا، اس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ نفاق کی حالت میں تھا اور اس کا مقصد اندرونی طور پر اسلام کو نقصان پہنچانا تھا۔
جب بیہقی نے سنا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ معاویہ ،حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کرنے کی وجہ سے ایمان سے خارج ہوگیا، تو انہوں نے کہا: نہیں! ایسی بات نہیں ہے۔ کیونکہ معاویہ مؤمن ہی نہیں تھا ، وہ ایمان میں داخل ہی نہیں ہوا تھا کہ جو اس سے خارج ہوتا، بلکہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں کفر سے نفاق کی طرف آیا(یعنی منافقین میں شامل ہوگیا)، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اپنی اصل حالت یعنی کفر کی طرف لوٹ گیا۔[1]








