عمرو عاص اور معاویہ کی حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں رائے
اعثم کوفی نے نقل کیا ہے: جب امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے جریر بن عبداللہ کے ذریعے معاویہ کو خط بھیجا اور اسے بیعت و اطاعت کی دعوت دی، تو معاویہ اس صلح آمیز پیغام سے پریشان ہو گیا اور اس نے عمرو بن عاص کو مدد کے لئے بلایا۔
جب عمرو عاص، معاویہ کے پاس آیا تو معاویہ نے اسے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
عمرو نے کہا: علی (علیہ السلام)کی مخالفت کرو اور ان کے خلاف جنگ نہ کرو۔
معاویہ نے کہا: ہم اس کے ساتھ قطع رحم، امت میں تفرقہ ڈالنے، خدا کی نافرمانی، بیعت توڑنے اور خلیفہ کے قتل کی وجہ سے جنگ کر رہے ہیں!
عمرو نے کہا: علی (علیہ السلام) تمام لوگوں سے فضیلت میں برتر ہیں، اور تم ان کی ہجرت، اسلام میں سبقت، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دامادی اور قرابت کا مقام نہیں رکھتے۔ اور عرب میں کوئی بھی ان کی شجاعت کے برابر نہیں، اور وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک بلند مرتبہ رکھتے ہیں اور صاحب حسن و جمال ہیں ۔
معاویہ نے کہا: تم نے سچ کہا، بات واقعی ایسی ہی ہے جیسا تم کہہ رہے ہو، لیکن ہم اسے عثمان کے خون کے بدلے میں اس پر لازم کرتے ہیں کہ وہ اسے قبول کرے۔
عمرو ہنس پڑا اور کہا: یہ سن کر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میں تم سے یہ باتیں سن رہا ہوں! کیونکہ عثمان کے خون کا حساب تو ہم سے اور تم سے لیا جانا چاہئے۔ تم نے سخت حالات میں اس کی فریاد کا جواب نہیں دیا اور سستی کی، اور جب میری آنکھوں کے سامنے اس کے گھر کا محاصرہ ہوا میں نے فلسطین کی طرف راہ فرار اختیار کی اور اس کی مدد کرنے سے گریز کیا ۔
اس نے مزید کہا: مجھ جیسا آدمی دھوکے باز ہی ہو سکتا ہے، اور معاویہ نے عمرو کی بات کی تصدیق کی۔[1]
اس کے بعد روایت ہے کہ امامِ برحق (علی علیہ السلام) جب شام والوں کی صلح و اصلاح سے مأیوس ہوئے تو انہوں نے مزید قوت جمع کی اور گروہِ قاسطین سے جنگ کو ناگزیر سمجھا۔
مسعودی کی روایت کے مطابق جنگ جمل کے چھ ماہ اور تیرہ دن بعد امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی مدد کے لئے نوّے ہزار کی فوج شام کی فوج کے مقابل جمع ہو گئی۔ ان میں اصحابِ بدر میں سے ۸۷ افراد (۱۷ مہاجرین اور ۷۰ انصار) شامل تھے جو صلح حدیبیہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھے، اور ۱۸۰۰ صحابہ نے بھی ان کی مدد کی۔[2]،[3]








