معاویه اور زندگی کے آخری دنوں میں اس کی آرزو
محمد بن اسحاق اور دیگر راویوں نے کہا ہے کہ جب معاویہ مرض الموت میں مبتلا ہوا تو وہ حمام گیا۔ جب اس نے اپنے جسم کی کمزوری دیکھی تو اپنی فنا اور اس موت کو یاد کر کے رو پڑا جو تمام مخلوق کے لئے مقدر ہے اور جو اس کا بھی انتظار کر رہی تھی۔ پھر اس نے ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا:’’میں دیکھتا ہوں کہ راتیں مجھے ویران کرنے میں جلدی کر رہی ہیں۔ انہوں نے میرا کچھ حصہ لے لیا ہے اور کچھ باقی چھوڑ دیا ہے۔ میری لمبائی اور چوڑائی نے مجھے گویا سمیٹ لیا ہے، اور میں جو پہلے چلتا پھرتا تھا، اب مجھے بٹھا دیا گیا ہے‘‘۔
جب اس کی موت قریب آ گئی، بیماری سخت ہو گئی اور علاج کی امید ختم ہو گئی تو اس نے ایک اور شعر کہا، جس کا مفہوم یہ ہے:’’کاش !میں نے ایک لمحہ بھی حکومت نہ کی ہوتی، اور لذتوں میں غافل اور اندھا نہ ہوتا، اور میں اس شخص (امیرالمؤمنین علی علیہ السلام) کی طرح ہوتا جس کے پاس دو پرانی چادریں تھیں، جو سادہ زندگی گزارتے تھے، یہاں تک کہ ان کی موت آ گئی‘‘۔[1]








