امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
آخری وقت میں معاویہ کی پشیمانی

آخری وقت میں معاویہ کی پشیمانی

اور اس قسم کی بے ربط باتیں کہنے کے بعد اس نے حکم دیا کہ اس منزل سے کوچ کیا جائے۔ وہ مختلف منازل طے کرتے ہوئے شام پہنچا۔

شام پہنچنے کے بعد معاویہ کی بیماری روز بروز بڑھتی گئی۔ اس سخت تکلیف کے دوران وہ پریشان کن خواب دیکھتا تھا اور ان سے خوفزدہ ہو جاتا تھا۔ وہ بہت زیادہ پانی پیتا تھا لیکن اس کی پیاس کم نہ ہوتی تھی۔ کبھی کبھی وہ بے ہوش ہو جاتا، اور جب ہوش میں آتا تو کہتا: میرا تمہارے ساتھ کیا معاملہ تھا، اے حجر بن عدی! اور اے عمرو بن حمق! اور اے فرزند ابی طالب !میں نے تم سے کیوں اختلاف کیا۔پھر کہتا: اے میرے خدا اور میرے سردار! اگر تو مجھے سزا دے تو میں اس کا مستحق ہوں، اور اگر تو مجھے معاف کر دے تو یہ تیرے کرم اور لطف سے بعید نہیں ہے ۔

اس کی بے چینی اور اضطراب لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جا رہا تھا، اور یزید اس کے سرہانے سے ہٹتا نہ تھا۔اسی تکلیف اور بے قراری کے دوران معاویہ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ جب یہ بے ہوشی طویل ہوئی تو قریش کی ایک عورت نے چیخ کر کہا کہ معاویہ فوت ہو گیا ہے۔

معاویہ اس آواز سے ہوش میں آیا، آنکھیں کھولیں، اپنے گلے میں لٹکا ہوا تعویذ توڑا اور اسے پھینک دیا، اور پھر کہا:

وإذ المَنیة اَنْشَبَت اَظْفارَها                                                                                                          اَلْفَیتُ کلّ تمیمة لاتنفَع

جب موت اپنے پنجے گاڑ دے، تو میں ہر بازو بند (تعویذ) کو بے فائدہ پاتا ہوں۔

اسی دوران یزید نے کہا: اے معاویہ! بہتر یہ ہے کہ آپ میرے لئے دوبارہ بیعت کی تجدید کریں، کیونکہ اگر (خدا نہ کرے) معاملہ کوئی اور رخ اختیار کر گیا اور لوگوں نے دوبارہ بیعت نہ کی تو مجھے آلِ ابوتراب کی طرف سے سخت مشکلات پیش آئیں گی۔

معاویہ نے یزید کی بات سنی، لیکن  ہاں یا نہ میں اسے کوئی جواب نہ دیا ۔

اگلے دن اس نے اپنے حکومتی اراکین کو بلایا اور دربان کو حکم دیا کہ کسی کو اندر آنے سے نہ روکا جائے۔ لوگ گروہ در گروہ دارالأمارۃ میں آئے اور انہوں نے معاویہ کو شدید کمزوری اور ناتوانی کی حالت میں پایا۔ چونکہ انہوں نے سنا تھا کہ وہ ولی عہدی کے معاملے میں متردد ہو گیا ہے، اس لئے معاویہ کے خاص اور مقرب افراد میں سے ضحاک بن قیس اور مسلم بن عقبہ اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: غالب گمان یہ ہے کہ امیر اس بیماری سے بچ نہیں سکے گا، ہماری خواہش ہے کہ ہم اس کے پاس جائیں اور اس سے کہیں کہ خلافت اپنے بیٹے یزید کو دے دے، کیونکہ ہم یہ ہرگز پسند نہیں کرتے کہ حکومت ابو سفیان کے خاندان سے نکل کر آلِ ابوتراب کے خاندان میں چلی جائے۔

اس کے بعد ضحاک اور مسلم معاویہ کے بستر کے قریب آئے اور اس کی حالت پوچھی۔ معاویہ نے کہا: میں بہت بڑے گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں، لیکن خدا کی رحمت اور مغفرت کی امید رکھتا ہوں۔

ضحاک نے کہا: لوگ معاویہ کو کمزور دیکھ کر پریشان ہیں اور قریب ہے کہ ان کی زندگی ہی میں اختلاف پیدا ہو جائے، اور یہ واضح ہے کہ ان کے بعد معاملہ کس طرف جائے گا۔

مسلم نے کہا: عوام اور اشراف کے طبقات نے یزید کی حکومت کو دل سے قبول کر لیا ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ دوبارہ معاویہ سے اس معاملے کی توثیق کر لی جائے۔

معاویہ نے کہا: میں لوگوں کے معاملے سے غافل نہیں ہوں، لیکن دوبارہ تجدید کرنا مناسب نہیں، کیونکہ آج بدھ کا دن ہے اور اس دن جو کام کیا جائے اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔

ان دونوں گمراہوں نے کہا: بہت بڑی تعداد لوگ دارالخلافہ کے دروازے پر جمع ہیں اور یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جب تک یزید کی بیعت نہ کی جائے وہ واپس نہیں جائیں گے۔

معاویہ نے کہا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو۔

چنانچہ ضحاک اور مسلم نے شام کے مشہور افراد میں سے ستر آدمیوں کو اندر داخل کیا۔ انہوں نے معاویہ کو سلام کیا اور اس نے انتہائی کمزور آواز میں ان کے سلام کا جواب دیا۔

پھر معاویہ نے اس جماعت سے پوچھا: کیا تم مجھ سے راضی ہو یا نہیں؟

انہوں نے اظہارِ شکر و سپاس کیا کہ انہوں نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلامپر سبّ و شتم کیا اور کہا کہ وہ عراق کی حکومت سے شام آیا اور کئی ہزار لوگوں کو قتل کیا، ہماری حکومت کو تباہ کر دیا۔ ہم یزید کی خلافت پر راضی ہیں لیکن اس کی اولاد کی خلافت پر نہیں۔ جب تک ہمارے جسم میں جان ہے ہم کسی اور کو اس معاملے میں دخل نہیں دینے دیں گے۔

معاویہ ان باتوں سے خوش ہوا اور بیٹھ گیا اور دربان سے کہا کہ باقی لوگوں کو بھی اندر آنے کی اجازت دے دو۔

جب معاویہ کے محل میں لوغ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تو اس نے لوگوں سے کہا: تم سب پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ دنیا کا انجام فنا ہے اور آج میرے جسم میں بھی کچھ سانسیں باقی ہیں۔ میرا دل تمہاری طرف متوجہ ہے۔ جس کو تم خلافت کے لئے بہتر سمجھو گے، میں اسے تم پر حاکم بنا دوں گا۔

شامیوں نے یک زبان ہو کر کہا: ہمیں صرف یزید چاہئے!

معاویہ نے دوبارہ کہا: میں تم سے سچ کہہ رہا ہوں، میری بات ماننے کے لئے نہ کہو۔ تم جسے مناسب سمجھو اسے خلافت کے لئے منتخب کر لو، کیونکہ اب میرے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ خدا کے سامنے میرے پاس خلافت کے بارے میں ایک دلیل ہو!

لوگوں نے بلند آواز سے کہا: ہمیں یزید کے سوا کسی اور کی ضرورت نہیں، اور ہم اس کے علاوہ کسی کو نہیں چاہتے۔

جب معاویہ نے دیکھا کہ لشکر اور رعایا کی اس معاملے میں ایک ہی رائے ہے، تو اس نے ضحاک سے کہا کہ یزید کی بیعت کر لو۔ ضحاک نے حکم کی تعمیل کی۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ نے بیعت کی، پھر جو لوگ بھی دارالأمارۃ میں موجود تھے ،انہوں نے بھی فوراً اس کی پیروی کی اور بیعت کر لی۔

جب اہلِ شام دارالأمارۃ سے باہر نکلے تو یزید نے معاویہ کے حکم سے خلافت کا لباس پہنا، معاویہ کی انگوٹھی پہنی، اس کا عمامہ سر پر رکھا، اور عثمان کا خون آلود لباسِ خلافت کے اوپر اوڑھ لیا، اور اپنے والد کی تلوار لٹکا کر دارالأمارۃ سے باہر آیا۔ پھر جامع مسجد گیا، منبر پر چڑھا اور دوپہر سے زوال تک خطبہ دیا، مختلف باتیں کیں، اور پھر  اہلِ شام میں سے باقی لوگوں نے بھی اس کی بیعت کر لی۔

جب یزید اس معاملے سے فارغ ہوا تو وہ اپنے باپ کے پاس آیا اور اسے بے ہوشی کی حالت میں پایا، جو موت کی سخت تکلیف میں مبتلا تھا۔ وہ کافی دیر وہاں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ معاویہ کو ہوش آیا اور اس نے آنکھیں کھولیں۔ اس سے پوچھا گیا کہ تم نے کیا کیا؟

یزید نے پورا واقعہ بیان کیا۔

اس کے بعد معاویہ نے ضحاک کو بلایا اور وہ تحریر اسے دے دی جو یزید کی ولی عہدی  اور اس سے متعلق امور کے بارے میں لکھی گئی تھی، اور حکم دیا کہ اگلے دن اسے خاص مجلس میں پڑھا جائے۔

اس کے بعد معاویہ نے یزید سے کہا: اے میرے بیٹے! مجھے بتاؤ کہ تم امت کے درمیان کس طریقے اور کس سیرت کے مطابق زندگی گزارو گے؟ کیا تم ابوبکر کے سیرت پر چلو گے، جنہوں نے مرتدین سے خدا کی راہ میں جنگیں کیں اور ہدایت کے راستے کو اختیار کیا، یہاں تک کہ جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو وہ لوگوں سے راضی تھے اور لوگ ان سے راضی تھے؟

یزید نے کہا: میں ابوبکر کی سیرت پر چلنے کی طاقت نہیں رکھتا، لیکن اپنی وسعت کے مطابق خدا کی کتاب اور مصطفیٰ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی سنت کے مطابق عمل کروں گا!

اس کے بعد معاویہ نے عمر اور عثمان کی تعریف کی اور ان کے فضائل اور کارنامے بیان کئے، پھر یزید سے پوچھا کہ کیا تم امور میں ان دونوں بزرگوں کی پیروی کر سکتے ہو؟

یزید نے پھر وہی جواب دیا جو پہلے دے چکا تھا۔[1]

 


[1] ۔ تاريخ روضة الصفا: ۵/ ۲۱۶۶.                                    

بازدید : 6