امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) جناب محمّد بن حنفیه کی شجاعت

(۲)

جناب محمّد بن حنفیه کی شجاعت

پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم کے جو اصحاب مصر گئے ان میں قيس بن عبادہ تھے  جو زاہد، بلند مرتبہ ،دلیرتھے جو آنحضرت کے فرمان اور احکامات لے کر جاتے تھے۔ عجوزی نے ان سے کہا:میں آپ سے چوہوں کی کمی کی شکایت کرتا ہوں۔

قيس نے کہا: تم نے کیا بہترین کنایہ استعمال کیا ہے۔ گھر کو گوشت، روغن، خرما اور نان سے بھر دو۔

ان کے پاس ہمیشہ خوراک ہوتی اور لوگوں کو گوشت و ترید کی دعوت دیتے اور ان کے باپ دادا  کی بھی یہی روش تھی۔

قيس ایسے بلند قامت تھے کہ جب ان کی شلوار کو روم لے جایا گیا اور محاذی نے روم کے سب سے بلند قامت سپاہی کی ناک پکڑی کہ جو زمین پر لیٹا ہوا تھا۔

لکھا گیاہے: بادشاہ روم نے دو آدمیوں کو معاویہ کے پاس بھیجا جن میں سے ایک طاقتور اور دوسرا بلند قامت تھا اور کہا کہ جب بھی تمہارے لشکر میں ان دونوں سے بڑھ کر کوئی شخص ملے تو میں اتنی تعداد میں قیدیوں کو آزاد کروں گا اور اگر تمہارے پاس ایسے کوئی سپاہی نہیں تو آؤ صلح کریں۔

   معاويه نے اس طاقتور شخص کے مقابلہ میں محمّد بن حنفيّه کو طلب کیا اور محمّد بن حنفيّه نے بیٹھے ہوئے اس رومی شخص سے ہاتھ ملایا اور وہ رومی شخص اپنی تمام کوششوں کے باوجود محمّد بن ‏حنفيّه کو ہلا بھی نہ سکا لیکن جب محمّد بن حنفيّه کی باری آئی تو آپ نے تیزی سے اسے اٹھا کر ہوا میں بلند کر دیا اور زمین پر پٹخ دیا اور یہ دیکھ کر معاویہ خوش ہوا۔

قيس بن سعد بن عباده کی شلوار اسی بلند قامت شخص کو پہنائی گئی جو اس کے سینہ تک پہنچی  اور شلوار کا بقیہ حصہ زمین پر  رینگ رہا تھا اور رومیوں نے یہ اعتراف کیا کہ وہ مغلوب ہو گئے.(1708)


1708) نظام ادارى مسلمانان در صدر اسلام: 381.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

بازدید : 744