امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(2) ایک بندۂ خدا پر حضرت اباالفضل العباس عليه السلام کی عنایت

(2)

ایک بندۂ خدا پر حضرت اباالفضل العباس عليه السلام کی عنایت

اس کا نام یونس تھا جو عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا تھا اور انسانی عمل کی وجہ سے اس پر حضرت ابوالفضل عليه السلام کی عنایت ہوئی اور وہ مسلمان ہو گیا اور پھر اس نے اپنا نام عبد المہدی رکھا۔

ان کا واقعہ بیت آیت اللہ مجاہد شہید شیخ محمد تقی بافقی کے خادم حاج عباس سے حوزۂ علمیہ قم کے ایک فاضل نے نقل کیا ہے:

مرحوم آيت الله بافقي نے مجھے حکم دیا تھا کہ رات کے وقت گھر کا دروازہ بند نہ کیا جائے اور روز و شب لوگوں کے لئے دروازہ کھلا رہتا تھا۔

ایک رات گھڑی پر آدھی رات کا وقت تھا کہ میں نے یہ محسوس کیا جیسے کوئی شخص گھر میں داخل ہوا ہے اور چونکہ وہ اجازت کے بغیر داخل ہوا تھا تو میں نے سوچا کہ وہ کوئی چور ہے۔ جلدی سے اٹھا اور صحن کی طرف گیا میں نے دیکھا کہ ایک بلند قامت شخص صحن میں کھڑا ہے اور چونکہ خاموش کھڑا تھا لہذا میں نے یہی سوچا کہ وہ چور ہے۔ میں نے پوری طاقت سے اس پر حملہ کیا اور زور سے اس کے ہاتھوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور چیخ کر بولا: تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ میں نے دیکھا کہ آیت اللہ بافقی نے کمرے سے آواز دی:’’عباس! اسے تنگ نہیں کرو، اس کا نام یونس ہے اور وہ مجھ سے ملنے کے لئے آیا ہے‘‘

میں انہیں آقا کے کمرے کی طرف لے گیا اور آیت اللہ بافقی نے ان کا احترام کیا اور انہوں نے حاج شیخ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور آقا نے ان کا نام عبد المہدی رکھا۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ اسے غسل خانہ میں لے جائیں اور کسی جراح کو ان  کا ختنہ کرنے کے لئے بلاؤں اور بعد کے دنوں میں انہیں باغ میں لے جاؤں اور  اسلام کے احکام کی تعلیم دوں۔

میں نے یکے بعد دیگرے حاج شیخ کے تمام احکامات پر عمل کیا اور پھر میں عبد المہدی کا دوست بن گیا۔ میں نے ان سے ان کے مسلمان ہونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں بغداد کا رہنے والا ہوں اور میں عیسائی تھا ۔ اور پیشہ کے لحاظ سے میں ڈرائیور ہوں اور  بغداد سے کربلا ، نجف اور دوسرے شہروں کی طرف سامان لے کر جاتا تھا۔ کچھ عرصہ قبل میں سامان لے کر تہران گیا اور وہ سامان پہنچانے کے بعد میں اس رات ایک جگہ آرام کر رہا تھا کہ گھوڑے پر سوار ایک جوان آیا اور اس نے کہا: میں ابوالفضل بن عليّ مرتضي ہوں اور مجھ پر تمہارا حق ہے جس کی وجہ سے میں دین حق کی طرف تمہاری رہنمائی کرنے آیا ہوں۔ میں نے پوچھا:آقا آپ پر میرا کون سا حق ہے؟

فرمایا:تم نے راستہ بھٹکے ہوئے ایک بوڑھے شخص کو کربلا پہنچایا تھا جو تھکا ہوا اور پیاسا تھا ،وہ کربلا کا زائر تھا  اور اب میں تمہارے اس نیک کام کا اجر دینے آیا ہوں ... تا کہ اسلام کی طرف تمہاری رہنمائی کروں۔

میں نے خوشی سے ان کا ستقبال کیا اور ان کی ساتھ روانہ ہو گیا۔انہوں نے فرمایا:اسی راستہ سے جاؤ ، دو افراد تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور وہ تمہیں ’’ہمارے شیخ‘‘ محمد تقی بافقی کے پاس لے جائیں گے اور تمہیں اسلام کی تعلیم دیں گے۔

میں کچھ آگے آیا تو دیکھا کہ وہاں دو جوان کھڑے تھے جو مجھے شیخ کے گھر لے آئے اور پھر چلے گئے اور میں نے آنحضرت کی عنایت سے حاج شیخ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا جس کے لئے میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔(1)


(1) كرامات صالحين ص 228

 

منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات:ص 1420 

 

بازدید : 808