(۴)
حضرت اباالفضل العباس عليه السلام
کا مرحوم شیخ انصاری کو مأمور فرمانا
کربلا کے مجاورین میں سے بعض ثقہ علماء نے نقل کیا ہے کہ محقق انصاری کی کتاب صلوۃ کے پیچھے باسمہ کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مرحوم شیخ مرتضیٰ انصاری کے شاگردوں میں سے شیخ عبد الرحیم تستری نے کہا: میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے حرم میں تھا کہ اعراب بادیہ میں سے ایک مرد اور عورت حرم مطہر میں داخل ہوئے، ان کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جو کہ مفلوج تھا۔ وہ لوگ آنحضرت سے متوسل ہوئے اور زیارت کرنے کے بعد باہر چلے گئے۔میں زیارت کرنے اور نماز پڑھنے کے بعد حضرت ابوالفضل عليه السلام کے حرم میں مشرف ہوا۔ میں نے دیکھا کہ وہ عورت اور مرد اپنے ببیمار بچہ کو وہاں لے کر آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں: دخيلك يابن اميرالمؤمنين، اور پھر وہ ضريح مقدّس کے پیچھے گئے لیکن انہوں نے اس بچہ کو حضرت عبّاس عليه السلام کی ضریح مقدس کے سامنے رکھ دیا جو کہ حرکت نہیں کر سکتا تھا۔
میں نماز پڑھ رہا تھا کہ جب اسے شفاء ملی اور وہ چلنے لگا، اس نے ادھر ادھر دیکھا لیکن اسے اس کے ماں باپ نظر نہ آئے وہ حرم مطہر سے باہر چلا گیا اور بعد میں اسے اس کے والدین مل گئے لیکن انہیں اس عمل پر کوئی حیرت بھی نہیں ہوئی۔
چونکہ میری بھی ایک حاجت تھی جسے میں ہمیشہ حرم مطہر میں عرض کرتا تھا مگر میری وہ حاجت پوری نہیں ہو رہی تھی۔ یہ دیکھ کر میرا صبر جواب دے گیا اور میں جسارت کرنے لگا اور عرض کیا: : يا اباالفضل! جب تک اعراب بادیہ آپ کے نزدیک ہم دینی علوم کے طلاب سے زیادہ عزیز ہیں اور ان کا زیادہ احترام ہے تو میں یہاں آپ کی خدمت میں نہیں رہوں گا بلکہ ان اعراب کے ساتھ مل جاؤں گا۔ پھر میں متوجہ ہوا کہ اعراب کے ضعف ایمان کی وجہ سے اس کی دعا جلد مستجاب ہو گئی ۔ اور پھر میں نے معذرت طلب کی ۔
نجف کی طرف واپسی کے موقع پر نجف میں داخل ہوتے وقت مرحوم آقا شیخ مرتضیٰ کے خادم سے میری ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا: اجب استادك!
جب میں ان کی خدمت میں پہنچا تو فرمایا: تمہاری دو حاجتیں ہیں۔ ایک یہ کہ تم حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے صحن مقدس کے قریب گھر خریدنا چاہتے ہو اور دوسری حاجت یہ ہے کہ مکہ کی زیارت سے مشرف ہونا چاہتے ہو۔ پھر آپ نے مجھے کچھ پیسے دیئے کہ انہیں ان دو حاجتوں کے لئے خرچ کروں اور فرمایا: جب تک میں زندہ ہوں کسی سے اس بات کا تذکرہ نہ کرنا!
میں نے ان پیسوں سے پہلے تو اپنا قرض ادا کیا اور بقیہ پیسوں کو خرید اور سفر حج میں خرچ کیا۔ یہ وہ واقعہ ہے جسے مؤثق علماء نے نقل کیا ہے اور کربلا میں بطور مکرر شیخ سے سنا ہے .(1)
(1) العبقري الحسان في احوال مولانا صاحب الزمان عجل الله تعالي فرجه الشريف ج5 ص 306 شماره 2128، انتشارات مسجد مقدس جمكران.
منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات:ص 1428








