امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امام حسن‏ عليه السلام کا خطبہ

امام حسن‏ عليه السلام کا خطبہ

***********************************

23رجب؛ ساباط مدائن میں جراح بن سنان علیہ اللعنۃ کا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو زخمی کرنا (سنہ ۴۲ ہجری)

***********************************

آپ نے خداکی حمد و ثناء کے بعد یوں فرمایا:

میں خدا کی حمد و ثناء کرنے والوں کی حمد کے برابر خدا کی حمد و ثناء کرتا ہوں، میں گواہی دینے والوں کی گواہی کے برابر گواہی دیتا ہوں کہ خدائے یگانہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمّد صلى الله عليه وآله وسلم خدا کے رسول اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں، اور خدا نے آپ کو اپنا امین اور اپنی روح قرار دیا، ان پر اور ان کی آل پر خدا کا درود ہو۔ آگاہ ہو جاؤ کہ وحدت و اتحاد کلمہ (اگرچہ وہ تمہیں پسند نہ ہو)تمہارے لئے اس چیز سے بہتر کہ جو تمہیں تفرقہ اور جدائی میں ڈال دے(اگرچہ تم اسے پسند  کرتے ہو)۔

خدا کی قسم! بیشک میں امید رکھتا ہوں کہ بحمداللَّه و منّه سے تمسک کروں جب کہ میں بندوں کے لئے سب سے زیادہ خیر خواہ رہوں، اور میرے لئے وہ رات کبھی دن میں تبدیل نہ ہو کہ جب میرے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کوئی بغض اور کینہ ہو یا میں کسی کے بارے میں کوئی برا  خیال یا مکاری و چالبازی کا ارادہ رکھتا ہوں۔ آگاہ ہو جاؤ!

خبرادار ہو جاؤ! میں تمہارے میں جو کچھ سوچتا ہوں اور تمہارے بارے میں جو رائے دیتا ہوں وہ تمہارے لئے تمہاری سوچ اور رائے سے بہتر ہے۔ پس میرے حکم کی مخالفت نہ کرو اور میری رائے کا انکار نہ کرو اور میری مخالفت نہ کرو۔ خداوند میری اور تمہاری مغفرت فرمائے اور اس چیز کی طرف رہنمائی فرمائے جس میں اس کی دوستی اور خوشنودی ہے۔

   راوى کہتا ہے: اس خطاب کے بعد لوگ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے: تمہاری نظر میں ان باتوں کا کیا مقصد تھا؟ خدا کی قسم! میرا یہ خیال ہے کہ یہ معاویہ سے صلح کرنا چاہتے ہیں اور امور اس کے سپرد کرنا چاہتے ہیں! خدا کی قسم! یہ شخص کافر ہو گیا ہے۔( انہوں نے یہ باتیں کہیں)! اور آنحضرت  کے خیمہ کو تباہ کر دیا اور آپ کے نیچے سے سجّاده کو کھینچ لیا کہ جس پر آپ تشریف فرما تھے۔

  اسی دوران عبدالرحمن بن عبداللَّه ازدى نامی شخص بہت تندی اور سختی سے پیش آیا اور اس نے آپ کے دوش مبارک سے رداء چھین  لی اور آنحضرت رداء کے بغیر بیٹھے ہوئے تھے جب کہ آپ کی کمر سے شمشير آویزاں تھی۔ پھر آپ نے اپنا گھوڑا طلب کیا اور اس پر سوار ہو گئے جب کہ آپ کے قریبی افراد اور آپ کے شیعوں نے آپ کو گھیرا ہوان تھا تا کہ وہ ان لوگوں کو آپ سے دور کر سکیں کہ جو آنحضرت کو اذیت پہنچانے یا آپ کی سرزنش کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا:قبيلۂ ربيعه اور ہمدان میرے پاس لاؤ۔ اور جب آپ نے انہیں طلب کیا تو وہ لوگ آپ  کے اردگرد جمع ہو گئے اور لوگوں کو آپ سے دور کرنے لگے ( ان دو قبیلوں کے علاوہ) لوگوں کا ایک اور گروہ بھی آنحضرت کے اطراف میں موجود تھا۔

   پس قبيلۂ بنى ‏اسد سے بنى نصر بن قعين کےخاندان سے ایک شخص آگے بڑھا کہ جس کا نام جرّاح بن سنان تھا اور جب آپ تاریکی میں ساباط (مدائن) سے گذر رہے تھے تو وہ شخص سامنے آیا اور اس نے آنحضرت کے گھوڑے کے منہ کو پکڑا جب کہ اس کے ہاتھ میں ایک تلوار بھی تھی اور اس نے کہا: «اللَّه اكبر يا حسن؛ أشركت كما أشرك ابوك من قبل»؛ «اے حسن؛ تم اسی طرح مشرك ہو گئے ہو کہ جس طرح تمہارا باپ مشرک ہو گیا تھا!»

(اس نے آپ سے یہ بد کلامی کی) اور پھر اپنے ہاتھ میں موجود تلوار سے آپ پر وار کیا ، تلوار آپ کے زانو پر لگی اور گوشت کو چیرتی ہوئی ہڈی تک پہنچ گئی، آنحضرت نے بھی اپنے ہاتھ میں موجود تلوار سے اسے مارا اور اس کے بعد اس شخص کی گردن میں ہاتھ ڈال دیئے اور دونوں زمین پر گر گئے۔

   عبداللَّه بن خطل – آنحضرت کا ایک شیعہ- آگے بڑھا اور اس نے جرّاح ‏بن سنان کے ہاتھ سے تلوار چھین کر اسی تلوار سے اس کا پیٹ پھاڑ دیا، ظبيان بن عماره نے اس پر حملہ کیا اور اور اس کا ناک کاٹ دیا اور پھر اس کے سر اور چہرے پر اینٹ سے اس قدر مارا کہ وہ ہلاک ہو گیا۔

   پھر وہ امام‏ عليه السلام کو ایک تخت پر لیٹا کر مدائن میں سعد بن مسعود ثقفى (‏جو آنحضرت کی طرف سے والی اور فرمانروا مقرر تھے اور اس سے پہلے حضرت اميرالمؤمنين على‏ عليه السلام‏ نے انہیں وہاں کا حاکم و والی مقرر کیا تھا اور پھر امام حسن ‏عليه السلام نے بھی ان کی تائید فرمائی) کے پاس لے گئے اور انہی کے گھر میں امام علیہ السلام کے زخم کا علاج کیا گیا۔ (1606)


1606) ترجمه مقاتل الطالبيّين: 81.

 

منبعمعاویه ج ... ص ...

 

 

بازدید : 940