امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(3) بارہ سالہ نوجوان کا عمر بن عبدالعزيز کو لاجواب کرنا

(3)

بارہ سالہ نوجوان کا عمر بن عبدالعزيز کو لاجواب کرنا

جب عمر بن عبدالعزيز کو خلافت ملی تو ملک کے اطراف اور گرد و نواح سے مختلف گروہ اسے مبارک باد دینے کی غرض سے اس کے پاس آتے تھے۔ ان میں سے ایک گروہ حجاز سے بھی کہ جس میں ایک نوجوان بھی آیا جو خلیفہ کی محفل میں کچھ کہنے کے لئے کھڑا ہوا۔

خليفه نے کہا:کوئی ایسا شخص بات کرے کہ جس کی عمر تم سے زیادہ ہے کیونکہ وہ بات کرنے کے لئے زیادہ شائستہ ہے۔

 نوجوان نے کہا: اے خليفۃ المسلمين! اگر شائستگی کا معیار عمر کا زیادہ ہونا ہے تو اس مجلس میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو خلافت کے لئے زیادہ شائستہ ہیں۔

عمر بن عبدالعزيز اس نوجوان کی بات سن کر بہت حیران ہوا اور اس نے اس کی تائید کرتے ہوئے اسے بات کرنے کی اجازت دی۔

بچہ نے کہا: ہم ایک دور کے شہر سے آئے ہیں اور ہم نہ تو کسی لالچ کی وجہ سے آئے ہیں اور نہ ہی کسی خوف کی وجہ سے آئے ہیں۔ اور چونکہ ہم آپ کے عدل سے واقف ہیں لہذا ہم اپنے گھروں میں  اطمینان سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور ہمیں کوئی خوف نہیں ہے کیونکہ ہم خود کو آپ کے عدل کے زیر سایہ امان میں سمجھتے ہیں۔ ہمارا یہاں آنے کا مقصد صرف اور صرف آپ کو سراہنا اور آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

فقال له عمر: عظنى يا غلام.

فقال: يا أميرالمؤمنين! أن اُنا ساغرّهم حلم اللَّه وثناء الناس عليهم فلاتكن ممّن يعزّه حلم اللَّه وثناء الناس عليه فتزل‏قدمك.

فنظر عمر في سنّ الغلام فإذاً له اثنتا عشرة سنة!(1)

عمر بن عبدالعزيز نے کہا: اے بیٹا!مجھے کوئی نصیحت کرو۔

نوجوان نے کہا: اے امير! ایک گروہ خدا کے حلم کی وجہ سے مغرور ہو گیا اور ایک گروہ لوگوں کی مدح و ثناء اور تمجید و ستائش کی وجہ سے مغرور ہو گیا۔ آپ کا شمار  ان لوگوں سے نہ ہو کہ جو حلمِ الٰہی یا لوگوں کی تحسین کی وجہ سے مغرور ہو کر لغزش کا شکار ہو جائیں۔

عمر بن عبدالعزيز  نے نوجوان کے چہرہ پر غور کہا اور اسے بارہ سال کا نوجوان پایا۔

 اس نواجوان نے عمر بن عبدالعزيز کی سامنے  فی البدہی قلبی تفکر کے بغیر جو جملے کہے وہ قابل توجہ ہیں:

اوّل:عمر نے کہا: کوئی ایسا شخص بات کرے کہ جس کی عمر تم سے زیادہ ہے کیونکہ وہ بات کرنے کے لئے زیادہ شائستہ ہے۔

 نوجوان نے کہا: اگر شائستگی کا معیار عمر کا زیادہ ہونا ہے تو اس مجلس میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو خلافت کے لئے زیادہ شائستہ ہیں۔

دومّ: عمر نے نوجوان سے کہا کہ وہ اسے کوئی نصیحت کرے. اس نے فی البدہی ایک بہترین اور موقع کے عین مطابق نصیحت کی۔

بچپن کے عالم میں ایسی فصاحت حيرت‏ انگیز ہے، جو فطری استعداد نہیں ہے بلکہ ایک خاص عطیۂ الٰہی ہے۔ اميرالمؤمنين على‏ عليه السلام کے فرمان کے مطابق ایسا سخنور خاص اور اعلٰی فصاحت کا مالک ہوتا ہے۔

سئل على‏ عليه السلام: من أفصح الناس؟

قال: المجيب المسكت عند بديهة المقال.(2)

على‏ عليه السلام سے سے پوچھا گیا: لوگوں میں سب سے زیادہ فصیح کون ہے؟

آپ نے اس  کے جواب میں فرمایا: سب سے زیادہ فصیح وہ ہے جو فی البدہی اور قلبی تفکر کے بغیر صحيح اور جامع جواب دے کہ کو سامنے والے کو خاموش (لاجواب)کر دے کہ وہ مزید کوئی بات نہ کہہ سکے۔(3)


1) المستطرف: 46/1.

2) ميزان الحكمة: 486/7.

3) سخن و سخنورى: 135.

 

منبع : معاويه : ج ... ص ...

 

بازدید : 932