(1)
پيامبر اکرم صلي الله عليه وآله وسلم
کے بارے میں ایک حدیث
در كتاب «تفسير فرات»میں لکھا گیا ہے:احمدبن عتاب کہتے ہیں :
امام باقر عليه السلام نے اپنے والد بزرگوار سے فرمایا ہے کہ آپ نے فرمایا :
ما بعث اللَّه نبيّاً إلّا أعطاه من العلم بعضه ، ما خلا النبيّ صلى الله عليه وآله وسلم فإنّه أعطاه من العلم كلّه .
خداوند متعال نے کسی پیغمبر کو مبث نہیں کیامگر یہ کہ اسے لم کا کچھ حصہ عطا کیا ہو،سوائےپیغمبر اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کے کیونکہ انہیں مکمل علم عطا کیا گیا ہے .
اور فرمایا : «تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ»(1) ؛ «ہر چیز کو بیان کرنے والے ہیں» .
اور ایک ددوسرے مورد میں فرمایا : «وَكَتَبْنا لَهُ في الْأَلْواحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ»(2) ؛ »ہم نے ان کے لئے الواح میں سب کچھ لکھ دیا ہے« .
اور فرمایا : «الَّذي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتابِ»(3) ؛ »جس کے پاس کتاب کا کچھ لم ہے» . اور یہ نہیں فرمایا : «جسکے پاس پوری کتاب کا علم ہے» ، بلكه فرمایا : «جسکے پاس کتاب کا کچھ علم ہے» ؛ لیکن حضرت محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کے بارے میں فرمایا :
«ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا»(4) ؛
«پھر ہم نے یہ کتاب اپنے برگزیدہ بندوں کو بطور میراث طا کی» .
اور یہ بیان تمام لوم سے مربوط ہے اور اس آیت میں جس برگزیدہ خانان کا تذکرہ ہوا ہے ،وہ ہم ہی ہیں .
پیغمبرخدا صلى الله عليه وآله وسلم خدا کی بارگاہ میں تقاضا کیا : «رَبِّ زِدْني عِلْماً»(5) ؛ «پروردگارا! میرے لم میں اضافہ فرما».
فهي الزيادة الّتي عندنا من العلم الّذي لم يكن عند أحدٍ من الأنبياء والأوصياء ولا ذرّيّة الأنبياء غيرنا ، فهذا العلم علمنا المنايا والبلايا وفصل الخطاب .
پس یہ وہی اضافہ ہے جو ہمارے پاس ہے ،یہ ایسا علم ہے جو ہمارے علاوہ وسرے انبیاء و اوصیاء اور ان کی ذریت میں سے کسی کے پاس نہیں ہے ،پس موت،بلاؤں اور فصل خطاب (یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کا علم)ہمارے پاس ہے .(6)
1) سوره نحل ، آيه 89 .
2) سوره اعراف ، آيه 145 .
3) سوره نمل ، آيه 40 .
4) سوره فاطر ، آيه 32 .
5) سوره طه ، آيه 114 .
6) تفسير فرات : 145 ح 11 ، بحار الأنوار : 64/26 ح 147 ، تفسير برهان : 36/2 ح1 .
منبع: قطره اي از درياي فضائل اهل بيت عليهم السلام :ج 2 ص 133








