امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
شیعوں کی کوتاہی اور دشمنوں کی ہٹ دھرمی

شیعوں کی کوتاہی اور دشمنوں کی ہٹ دھرمی

اگر امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد شیعہ  اُن کے حکم کے مطابق گریہ و نوحہ کرتے تو دنیا کے حالات و واقعات ایک مختلف رخ اختیار کر سکتے تھے۔ لیکن افسوس کہ دشمنوں کی  مخالفت ، رکاوٹوں، عزاداری پر پابندیوں اور  شیعوں کی اس احکامات سے ناواقفیت کے باعث اس پر عمل نہ ہو سکا، اور وہی کچھ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔

اب جبکہ عزاداری، اور  خصوصاً  اربعین کے موقع پر امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور زیارت بہت زیادہ فروغ پا چکی ہے،دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہی ہے، اور دیگر مذاہب کے بہت سے لوگ مکتبِ تشیع کی طرف مائل ہو رہے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں مذہب تشیع اختیار کر رہے ہیں ، تو دشمن عزاداری اور زیارت کی مخالفت میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے لیے سازگار حالات پیدا نہ ہونے پائیں اور دنیا کے ظالم حکمران اپنی ظالمانہ حکومتوں کا سلسلہ بدستور جاری رکھ سکیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسین علیہ السلام کے اس فرمان کا راز آشکار ہوتا ہے جو آپ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری لمحات میں بیان فرمایا تھا؛ جب آپ نے اپنے شیعوں کو سلام پہنچایا اور ان سے درخواست کی کہ وہ آپ کے لئے نوحہ و ماتم کریں اور عزاداری برپا کریں۔

بازدید : 14