تقیہ کے زمانے میں امام صادق علیہ السلام کے گھر امام حسین علیه السلام کی عزاداری
سفیان بن مصعب عبدی کہتے ہیں:
میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا:اُمِّ فروہ سے کہو کہ آئیں اور سنیں کہ اُن کے جدّ (امام حسین علیہ السلام) کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا۔
سفیان کہتے ہیں کہ اُمِّ فروہ آئیں اور پردے کے پیچھے بیٹھ گئیں۔ پھر امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:ہمارے لیے مرثیہ پڑھو۔
میں نے مرثیہ شروع کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا:
’’اے اُمِّ فروہ! اپنے آنسوؤں کی نذر پیش کرو۔‘‘
اُمِّ فروہ نے جب یہ شعر سنا تو بلند آواز سے گریہ و زاری کرنے لگیں اور گھر میں موجود دوسری عورتوں کی بھی آہ و بکاء بلند ہو گئی۔
اس پر امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
’’دروازہ! دروازہ!‘‘ (ممکن ہے اس سے مراد یہ ہو کہ دروازہ بند کر دو تاکہ دشمنوں کو معلوم نہ ہو کہ یہاں امام حسین علیہ السلام کی مجلسِ عزا برپا ہے۔)
سفیان کہتے ہیں کہ مدینہ کے لوگ گھر کے دروازے پر جمع ہو گئے تاکہ معلوم کریں کہ کیا معاملہ ہے۔ چنانچہ امام صادق علیہ السلام نے ایک شخص کو ان کے پاس بھیجا۔ اس نے لوگوں سے کہا:ہمارے ایک بچے پر غشی طاری ہو گئی تھی، اسی وجہ سے عورتیں آہ و بکاء کر رہی تھیں اور رو رہی تھیں ۔
* * *
سفیان بن مصعب عبدی، کوفہ کے معروف شاعروں میں سے تھے اور اہلبیت علیہم السلام کے شیعوں میں شمار ہوتے تھے۔ سماعہ نے ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:اے گروہِ شیعہ! اپنے بچوں کو عبدی کے اشعار سکھاؤ، کیونکہ وہ دینِ خدا پر قائم ہے۔
اُمِّ فروہ، امام صادق علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی والدہ فاطمہ بنت الحسین علیہما السلام تھیں، جیسا کہ شیخ مفیدؒ نے اپنی کتاب’’الارشاد‘‘میں ذکر فرمایا ہے۔
اور امام کے اس فرمان «ما صنع بجدها»سے یہ مراد ہے کہ ان کے نانا امام حسین علیہ السلام ہیں ۔
اس روایت سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ مدینہ کی حکومت اور مخالفین امام حسین بن علی علیہما السلام پر عزاداری کے معاملے میں کس قدر سختی اور دباؤ سے کام لیتے تھے۔[1]








