امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
عزاداری ممنوع

عزاداری ممنوع

رضاخان نے حکم دیا تھا کہ عورتیں بے پردہ رہیں اور اس نے روضہ خوانی اور تعزیہ خوانی بھی ممنوع کر دی تھی۔

عاشورا کے دن اس امام زادے کےمقدس صحن میں تعزیہ خوان اور مصائب خوان  تعزیہ و مصائب پڑھنے میں مصروف تھے۔ اس گاؤں اور آس پاس کے دوسرے دیہاتوں سے بھی بہت سے لوگ مجلسِ تعزیہ میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔

اچانک گاؤں کا ایک شخص آیا اور مجلس عزا میں داخل ہو کر بلند آواز سے کہنے لگا:لوگو! بھاگ جاؤ، سرکاری اہلکار گھوڑوں پر سوار تیزی سے اس گاؤں کی طرف آ رہے ہیں۔

کچھ لوگ بھاگ گئے۔ تعزیہ خوانوں کے سردار نے تعزیہ خوانوں اور وہاں موجود لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:مت بھاگو، میں ان کو جواب دوں گا۔ اگر وہ کسی کو گرفتار کریں گے تو سب سے پہلے مجھے گرفتار کریں گے۔

اس کے بعد اس نے تعزیہ خوانی جاری رکھی اور کچھ لوگ بھی بیٹھے رہے اور وہ وہاں سے نہیں بھاگے۔

جب سرکاری اہلکار  مجلس عزا کے مقام سے تقریباً ایک ہزار قدم کے فاصلہ پر تھے تو اہلکاروں کے ساتھ موجود ایک افسر  اچانک گھوڑے سے نیچے گر پڑا اور اپنا پیٹ پکڑ کر بلند آواز سے چیخنے لگا:پیٹ کے درد نے مجھے مار ڈالا!"

اس کے ساتھ موجود اہلکار اسے زمین سے اٹھاتے اور بٹھاتے رہے، جبکہ وہ مسلسل کہتا رہا:میں پیٹ کے درد سے مر  رہا ہوں !

چند منٹ گزرنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بولا:میرے پیٹ کا درد ٹھیک ہو گیا ہے۔

پھر اس نے وہاں موجود گاؤں والوں سے کہا:

جاؤ، تعزیہ خوانوں سے کہو کہ تعزیہ خوانی جاری رکھیں، ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں۔

گاؤں کے چند بزرگ اس کے گرد جمع ہوئے اور  اس سے پوچھا:تمہارا درد اچانک کیسے ٹھیک ہو گیا؟

اس نے کہا:حقیقت یہ ہے کہ میں نے محسوس کیا کہ یہ عام درد نہیں ہے۔ میں نے نذر مانی کہ اگر میرا درد ٹھیک ہو گیا تو عاشورا کے دس دنوں کا خرچ خود اٹھاؤں گا اور روضہ خوانی (مصائب خوانی) کرواؤں گا۔

بعد میں اس نے اپنی اس نذر کو پورا بھی کیا۔[1]

 


[1] ۔ عمرم چگونه گذشت : ۹۶ .

بازدید : 19