شب عاشورا میں مرحوم شیخ انصاری اور ان کی نسل کی عزاداری
مرحوم آیت اللہ حاج شیخ احمد سبط الشیخ، جو بیتِ علامہ شیخ انصاری قدس سرہ کے معروف اور محترم علماء میں سے تھے، اور جنہوں نے مؤلف کے لئے شیخ انصاری اور ان کی نسل کے علماء کی عزاداری کا طریقہ بیان کیا،وہ فرماتے تھے کہ شیخ انصاری اعلیٰ اللہ مقامہ کے زمانے سے لے کر آج تک اس خاندان کے علماء میں یہ سنت رائج ہے کہ ہر سال شبِ عاشورا کو مجلسِ روضہ خوانی اور مجلس کے اختتام کے بعد اس خاندان کے علماء، شیخ کی نسل سے دیگر افراد اور مجلس کے شرکاء سینہ زنی اور نوحہ خوانی کرتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مرحوم علامہ شیخ انصاری قدس سرہ ہر سال نجف اشرف میں اپنے گھر پر مجالسِ روضہ برپا کرتے تھے، اور تاسوعا و عاشورا کی راتوں میں مجلس کے اختتام کے بعد سینہ زنی اور نوحہ خوانی کرتے تھے۔
ایک سال مجلس شبِ عاشورا کے طویل ہو جانے کی وجہ سے، اور ہمسایوں کے حقوق کی رعایت کے پیشِ نظر کہ کہیں انہیں تکلیف نہ ہو، شیخ نے فرمایا کہ سینہ زنی ترک کر دی جائے۔ چنانچہ اہلِ مجلس نے سینہ زنی نہ کی اوروہاں سے چلے گئے، اور شیخ کی بھی آنکھ لگ گئی ۔
زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ شیخ بیدار ہو گئے اور حکم دیا کہ جو لوگ مجلس میں موجود تھے انہیں دوبارہ جمع کیا جائے اور کہا جائے کہ سینہ زنی اور نوحہ خوانی کریں۔ نیز سب کو شربت پلایا جائے اور ان کی مہمان نوازی کی جائے۔
چنانچہ کچھ لوگوں کو جمع کیا گیا اور وہ سینہ زنی میں مشغول ہو گئے۔ خود شیخ بھی ان کے ساتھ سینہ زنی کرنے لگے۔
جب ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:
جب میری آنکھ لگ گئی تو مجھے خواب میں حضرت صدیقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی زیارت ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: شیخ مرتضیٰ! کیا تم میرے فرزند اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی عزاداری میں رکاوٹ بن رہے ہو؟
میں نے عرض کیا: نہیں بی بی ۔
اسی وقت میری آنکھ کھل گئی۔ لہٰذا میں حضرت زہرا علیہا السلام سے شرم محسوس کرتا ہوں کہ ان کے فرزند کی شہادت کی رات (شبِ عاشورا) عزاداری کئے بغیر سو جاؤں۔
اور اسی وجہ سے وہ جب تک زندہ رہے، ہر سال شبِ عاشورا مجلسِ روضہ خوانی کے اختتام پر سینہ زنی کو ترک نہیں کرتے تھے، بلکہ خود بھی اس میں شرکت کرتے اور سینہ زنی کرتے تھے۔
لہٰذا شیخ کے وصال کے بعد سے آج تک ان کی نسل نے اس سنت کو محفوظ رکھا ہے اور ہر سال شبِ عاشورا اسے انجام دیتے ہیں۔[1]








