زیارت عاشورا کی اہم ترین قرائت
زیارتِ عاشورا ان نہایت اہم اور عظیم زیارتوں میں سے ہے جن کی تلاوت کو شیعہ حضرات بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ زیارت احادیثِ قدسیہ میں سے ہے اور ولایت و برائت کے اعلیٰ مضامین پر مشتمل ہے، نیز ان مظالم اور مصائب کی یاد دلاتی ہے جو دشمنانِ دین نے اہلِبیت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر روا رکھے۔
تاریخ کے دوران شیعہ حضرات زیارتِ عاشورا کی پابندی سے تلاوت کرتے ہیں اور اس کے متعلق وارد مختلف ختومات کی انجام دہی سے اپنی حاجتوں کو حاصل کرتے رہے ہیں۔
ہم یہاں یہ بیان نہیں کرنا چاہتے کہ زیارتِ عاشورا کی کون سی قرائت زیادہ مؤثر ہے، بلکہ ہمارا مقصد زیارتِ عاشورا کی سب سے سوزناک قرائت کو بیان کرنا ہے، اگرچہ اس پر عمل کرنا اولیائے الٰہی کے بزرگوں کا کام ہے اور عام لوگوں کی قدرت و استطاعت سے باہر ہے؛ لیکن اس سے آگاہی ہمارے معرفت میں اضافہ کرتی ہے اور ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ دنیا میں ایسے اسرار موجود ہیں جن سے دنیا میں ہماری مصروفیات نے ہمیں دور کر رکھا ہے۔
زیارتِ عاشورا کی سب سے سوزناک قرائت سے آگاہی کے لئے ایک مقدمہ بیان کرنا ضروری ہے، جو ہمارے نزدیک دینی معارف میں سے ایک نہایت مسلم حقیقت ہے، اور جس کا عنوان امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے زمانے میں بیان کیا گیا ہے اور اسی سے استفادہ ہوتا ہے، اگرچہ اس وقت بہت سے لوگ اسے بعید سمجھتے ہیں یا اس کا انکار کرتے ہیں۔
اگرچہ ہم اس مقدمہ کو مختصر اور اجمالی طور پر بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں غور و فکر کرنے سے مطلب واضح ہو جاتا ہے۔ اب ہم اس مقدمہ کو نقل کرتے ہیں:
’’زمان‘‘ کائنات کے نہایت پراسرار مسائل میں سے ایک ہے، اور جب تک حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ا لشریف، جو صاحب الزمان ہیں، ظہور نہ فرمائیں، زمان کی حقیقت، زمان کے قبض و بسط، اور زمان میں سفر کرنے کی کیفیت( یعنی ماضی اور مستقبل کی طرف سیر و سفر ) واضح نہیں ہوگی۔
ان شاء اللہ !خدا حضرت حجت ارواحنا فداہ کے ظہور کو جلد از جلد محقق فرمائے تاکہ وہ عالمِ ہستی کے اسرار اور اس سے متعلق اہم مسائل آشکار اور روشن فرمائیں کہ جن میں سے ایک ’’زمان‘‘ ہے۔
زمانۂ حال سے نکل کر ماضی یا مستقبل کے زمانوں میں داخل ہونا، اہم روحانی اور معنوی طاقتوں میں سے ہے، جو اہلبیت علیہم السلام کی عنایت سے کبھی کبھی خدا کے بعض بزرگ اولیاء کو حاصل ہوئی ہے۔
معنویت کے اعتبار سے بعض عظیم شخصیات، خداوند تعالیٰ اور اہلبیت علیہم السلام کے قرب کی وجہ سے اس مقام پر فائز تھیں کہ وہ زمانۂ حال سے نکل کر سن ۶۱ ہجری کے کربلا میں داخل ہو جاتی تھیں اور عاشورہ کے دن کے بعض واقعات کا مشاہدہ کرتی تھیں۔
اب اگر ایسے افراد اس وقت، جب وہ امام حسین علیہ السلام کے بچوں کے رونے کی آوازیں اور اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں کی خوشی اور شور و غل سن رہے ہوں، زیارتِ عاشورا پڑھیں اور کہیں:
وَ هٰذَا يَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زِيَادٍ وَ آلُ مَرْوَانَ.
اور یہ وہ دن ہے جس میں آلِ زیاد اور آلِ مروان خوش ہوئے تھے۔
تو کیا ان کی قرائت، جو ان مناظر میں موجود ہیں اور اپنی آنکھوں اور کانوں سے حرمِ حسینی کے بچوں کے گریہ و بکاء اور دشمنوں کی خوشی و ہنگامہ آرائی کو دیکھ اور سن رہے ہیں، عام لوگوں کی قرائت سے زیادہ سوزناک نہیں ہوگی، جو ان مناظر کو نہیں دیکھ سکے اور نہ سن سکے ہیں؟!








