امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
معاویه کا اپنی زندگی کے آخری دن بھی لوگوں کو دھوکہ دینا

معاویه کا اپنی زندگی کے آخری دن بھی لوگوں کو دھوکہ دینا

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ معاویہ ایسی حالت میں بھی، جب وہ موت کو اپنے سامنے دیکھ رہا تھا، پھر بھی لوگوں کو دھوکہ اور فریب دینے کی فکر میں تھا۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ دھوکہ دہی اور مکاری سے باز نہیں آیا اور لوگوں کو گمراہ کرنے، اسلام کو بدلنے اور سادہ لوح افراد کے افکار کو پراگندہ کرنے کی مسلسل کوشش کرتا رہا ۔

چنانچہ اگلے دن، جب اس کے لشکر کے سردار اس کی بیماری سے آگاہ ہوئے اور عیادت کے لئے اس کے پاس آئےتو اس کی یہ حالت تھی کہ اس کا منہ آدھا کھلا ہوا تھا اور وہ لقوہ  زدہ (فالج) حالت میں تھا اور اسے بات کرنے میں بڑی دشواری ہو رہی تھی ۔ اس نے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ  ایک باایمان مسلمان اور خدا دوست انسان ہے اور خدا کی رحمت کا مستحق ہے ، اس نے کہا:انسان جس درد اور تکلیف کا سامنا کرتا ہے ، وہ دو طرح کا ہوتا ہے: ایک تو خدا کی طرف سے سزا ہوتی ہے، جس کے ذریعے پروردگار کمزور ایمان اور سست مزاج لوگوں کو ان کے برے اعمال اور نافرمانیوں کی وجہ سے درد اور  عذاب میں مبتلا کر کے سزا دیتا ہے، اور ان کے حالات کو دوسروں کے لئے عبرت بنا دیتا ہے۔

اور دوسری قسم یہ ہے کہ خدا دوست لوگوں کے صبر و تحمل کو آزمائش کے ذریعے ظاہر کرتا ہے تاکہ ان کی فضیلت کا درجہ بلند ہو اور دوسرے لوگ ان کے حال سے جان لیں کہ خالق ان سے محبت کرتا ہے اور انہیں درد و تکلیف کے ذریعے آزما کر ان کے مرتبے میں اضافہ کرتا ہے۔

خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اس درد اور بیماری کے ذریعے آزماکر میرے تسلیم و رضا کو ظاہر کر دیا ہے۔ اگرچہ  اس وقت میرے جسم کا ایک عضو (منہ) تکلیف میں ہے تو میرے بدن میں بہت سے اعضاء صحیح و سالم ہیں۔ اگر میں کچھ دنوں سے کمزور ہوا ہوں تو برسوں تک صحت مند اور طاقتور بھی رہا ہوں۔خدا نے کبھی اپنی نعمتیں مجھ سے نہیں چھینی ہیں اور ہمیشہ میں اس کی رحمت و شفقت کے سائے میں رہا ہوں۔

اور اب بھی خدا نے مجھے یہ بیماری دی ہے تاکہ مسلمان مجھے دیکھیں اور میرے لئے دعا کریں اور خدا سے میری صحت کی دعا کریں، اور یہ دعا ان کے لئے بھی خدا کی رحمت اور مغفرت کا سبب بنے!

معاویہ کے یہ فریب پر مبنی اور ریاکارانہ کلمات اس قدر مؤثر ثابت ہوئے کہ اس کے لشکر کے تمام سرداروں نے مل کر اس کے لئے دعا کی اور خدا سے اس کی صحتیابی کی درخواست کی اور  پھر وہ اپنے خیموں کی طرف لوٹ گئے۔

جب معاویہ تنہا رہ گیا تو اچانک اسے اپنے ضمیر کی آواز سنائی دی۔ اسے احساس ہوا کہ جو ضمیر کئی دہائیوں سے غفلت کی گہری نیند سویا ہوا تھا، وہ اب بیدار ہو گیا ہے اور اسے ملامت کر رہا ہے۔ضمیر کے اس عذاب نے معاویہ کو رلا دیا۔ وہ شخص جو بے خوفی سے لوگوں کے سروں کو جسموں سے جدا کرتا تھا، بے پرواہی سے گھروں کو برباد کرتا تھا، اور دشمنوں کی زندگیوں کو لوٹ لیتا تھا، اب اپنی حالت پر  رو رہا تھا ۔

معاویہ کے سکته (بیماری) کی خبر سن کر مروان بن حکم جلدی سے آیا  اور اس کے خیمے میں داخل ہوا۔ جب اس نے اسے روتے اور بے قرار دیکھا تو اس کی وجہ پوچھی۔

معاویہ نے کہا: اے مروان! میں اپنے ماضی کے برے اعمال پر رو رہا ہوں، اور اس بات پر نادم ہوں کہ میں ہزاروں نیک کام کر سکتا تھا مگر نہیں کئے۔ میں اس بے چینی میں مبتلا ہوں کہ میں نے کیوں اسلام کے بعض نیک اور پاک لوگوں کو قتل کیا اور خدا کے غضب کا خوف نہ کیا۔

پھر اس نے کہا: اے مروان! یہ سب کچھ یزید کی محبت کی وجہ سے ہوا، کیونکہ اسی کی خاطر اور اس کی خلافت کی بنیادیں مضبوط کرنے کی امید میں، میں نے خدا کو ناراض کیا۔ اب مجھے یقین ہے کہ یہ لقوہ (فالج) اور میرے منہ کا ٹیڑھا ہونا خدا کے غضب کی علامت ہے۔ اور یہ بھی اسی وجہ سے ہوا کہ میں نے ابوتراب (حضرت علی علیہ السلام) سے دشمنی کی،تا کہ  آلِ ابوتراب کہیں  یزید پر غالب نہ آ جائیں، اس لئے میں نے ان کے خلاف لعنت اور ان سے دوری کا حکم دیا۔

اور جب اس نے یہ بات کہی تو حکم دیا کہ سامان باندھا جائے اور شام کی طرف روانہ ہوا جائے۔ جب معاویہ شام پہنچا تو اس کی بیماری مزید شدت اختیار کر گئی۔ معلوم ہوا کہ اس کا جگر بھی کمزور ہو چکا ہے اور صحت بحال نہیں رہی۔ اسی دوران اسے استسقاء [1] کی بیماری بھی لاحق ہو گئی اور ایک جگر سوز پیاس نے اس کے وجود کو گھیر لیا۔ وہ جتنا زیادہ پانی پیتا تھا، اتنا ہی زیادہ پیاسا ہوتا جاتا اور اس کی پیاس کسی طرح کم نہ ہوتی۔

چند دن اسی حالت میں گزرے، حتیٰ کہ اسے بے ہوشی کے دورے بھی پڑنے لگے اور اس کی صحتیابی کی کوئی امید باقی نہ رہی۔ سب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ معاویہ کی موت کا وقت قریب آ چکا ہے اور جلد ہی اس کی عمر کی کتاب بند ہونے والی ہے۔

ان دنوں یزید اپنے باپ کے بستر سے جدا نہیں ہوتا تھا، ہر وقت اس کے پاس بیٹھا رہتا۔ایک دن جب معاویہ کی حالت مزید خراب ہو گئی تو یزید نے اس سے کہا: بہتر ہے کہ تم میرے معاملے کو واضح کر دو اور اپنی زندگی ہی میں میرے ہاتھ پر بیعت لے لو، تاکہ تمہارے بعد آلِ علی (علیہ السلام) میری خلافت کی بنیادوں کو کمزور نہ کر سکیں۔

اگرچہ معاویہ کا مقصد یزید کو خلافت دلوانا ہی تھا،لیکن پھر بھی اس نے یزید کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن اس نے حکم دیا کہ اہلِ شام کو ملاقات کی اجازت دے دی جائے، اور منادی کرنے والوں نے ہر طرف اعلان کیا کہ اب معاویہ کے دربار میں کوئی دربان اور محافظ نہیں، اور جو چاہے آ کر’’امیرالمؤمنین معاویہ!!‘‘کی عیادت کر سکتا ہے۔

 


[1] ۔ پیٹ میں پانی بھر جانے کی بیماری.            

بازدید : 508