(۲)
معجزه امام حسن مجتبي عليه السلام در مدينه
محمّد بن جرير طبرى رحمه الله؛ محمّد بن حجاره سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
میں نے امام حسن مجتبى عليه السلام کو دیکھا کہجب ہرنوں کا ایک گروہ آپ کے قریب سے گذر رہا تھا۔ امام حسن علیہ السلام نے انہیں آواز دی تو سب نے جواب دیا اور وہ سب آپ کے سامنے حاضر ہو گئیں۔
ہم نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا ! یہ وحشی حیوان ہیں، ہمیں کوئی آسمانی معجزہ دکھائیں تو امام علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھا ، گویا اس کے دروازے کھل گئے ہوں ، ایک نور نیچے آیا اور مدینہ کے تمام گھروں نے اس نور کا احاطہ کر لیا اور پھر اچانک سے سب گھر ایسے لرزنے لگے جیسے گرنے والے ہوں۔
ہم نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا !۔ ان کو واپس پلٹا دیں۔
امام حسن عليه السلام نے فرمایا :
نحن الأوّلون والآخرون، ونحن الآمرون، ونحن النور، ننوّر الروحانيّين، ننوّر بنور اللَّه ونروّح برَوحه، فينا مسكنه وإلينا معدنه، الآخر منّا كالأوّل، والأوّل منّا كالآخر.
ہم وہ اوّل ہیں جن سے خلقت کا آغاز ہوا، ہم وہ آخر ہیں جن سے کائنات کا اختتام ہو گا، ہم ایسے امر کرنے والے ہیں جن کے حکم کی ہر چیز اطاعت کرتی ہے، ہم وہ نور ہیں جو فرشتوں کو نور بخشتا ہے، ہ خدا کے نور کے ساتھ ان کو منور کرتے ہیں اور الٰہی بشارت کے ذریعہ سے ہم انہیں مسرور کرتے ہیں، خدا کے نور کا ٹھکانہ اور معدن ہم ہیں، اور ہمارا اوّل، آخر کی طرح ہے اور ہمارا ٓخر ، اوّل کی طرح ہے۔ (1). (2)
1) يعنى ہم سے قبل آنے والے امام علم و قدرت اور تمام صفات کے لئے لحاظ سے ہمارے بعد آنے والے اماموں کی مانند ہیں اور اس کے برعکس ( یعنی ہمارے بعد وآنے والے امام علم و قدرت اور تمام صفات کے لحاظ سے ہم سے قبل آنے والے اماموں کی مانند ہیں) ۔ اور شاید اس عبارت کا یوں معنی بیان کر سکتے ہیں کہ: ہماری زندگی کے آخری ایّام میں بھی ہمارا علم و قدرت اور تمام صفات اسی طرح ہوتی ہیں کہ جس طرح ولادت کے وقت ہمارا علم و قدرت اور تمام صفات ہوتی ہیں؛ اور ولادت کے وقت ہمارا علم و قدرت اسی طرح ہے جیسے ہماری زندگی کے آخری ایّام میں ہمارا علم و قدرت اور تمام صفات ہوتی ہیں۔
2) نوادر المعجزات: 103 ح 8 ، دلائل الامامة: 168 ح 13، مدينة المعاجز: 236/4 ح 19.
منبع: فضائل اہلبيت عليہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: ج 1 ص 435 ح 7








