(۶)
امام حسن مجتبي عليه السلام کا بچپن کے عالم میں کلام کرنا
كتاب «مناقب» میں ذکر ہوا ہے ک محمّد بن اسحاق کہتے ہیں:
ایک دن ابوسفيان؛ امير المؤمنین على عليه السلام کے پاس آیا اور کہا: يا ابا الحسن! مجھے آپ سے کام ہے۔
آنحضرت نے فرمایا: کیا کام ہے؟
اس نے کہا: میرے ساتھ اپنے چچا زاد محمّد کے پاس چلیں اور ان سے درخواست کریں کہہمارے درمیان قرار داد تحریری کریں۔
امیر المؤمنین حضرت على عليه السلام نے فرمایا:
اے ابو سفيان ! میرے چچا زاد رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے تمہارے ساتھ جو قرار دار لکھی ہے اس سے کبھی نہیں پھریں گے۔
حضرت فاطمه زہراء عليہا السلام پشت پرده یہ گفتگو سن رہیں تھیں ، جب کہ امام حسن عليه السلام چودہ ماہ کی عمر میں اپنی مادر گرامی کے سامنے چل رہے تھے۔
ابو سفيان نے حضرت زہراء عليہا السلام سے کہا: اے محمّد کی بیٹی! اس بچے سے کہیں کہ اپنے جد بزرگوار سے میری سفارش کریں تا کہ اس وسیلہ سے وہ عرب و عجم کے درمیان آقای و سرداری کریں۔
اسی دوران امام حسن عليه السلام ؛ ابوسفيان کی طرف بڑھے ، ایک ہاتھ سے اس کی ناک اور دوسرے سے داڑھی پکڑی اور اس وقت خداوند متعال نے انہیں قوت گویائی عطا کی اور آپ نے فرمیایا:
يا أباسفيان! قل: لا إله إلّا اللَّه، محمّد رسول اللَّه حتّى أكون شفيعاً.
اے ابو سفيان ! تم کہو : «لا اله الا اللَّه، محمّد رسول اللَّه» تا کہ میں تمہارا شفيع بنوں .
جب امير المؤمنین على عليه السلام نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا:
الحمد للَّه الّذي جعل في آل محمّد من ذرّيّة محمّد المصطفى صلى الله عليه و آله و سلم نظير يحيى بن زكريّا « وَآتَيْناهُ الْحُكْمَ صَبِيّاً » (1) .
حمد و ثناء اس خد کے لئے ہے کہ جس نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذریت میں سے آل محمد علیہم السلام کو ایسی ذریت قرار دیا جو یحیی بن زکریا کے مانند ہیں « اور اس بارے میں خداوند کریم نے فرمایا ہے) ’’ ہم نے بچپنے میں اسے حکم ( یعنی نبوت دی) عطا کیا » .(2)
1) سوره مريم : آيه 12 .
2) المناقب : 6/4 ، بحار الأنوار : 326/43 ح 6 .
منبع: فضائل اہلبيت عليہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ :ج 2 ص 454 ح 4








