(۲)
عائشہ اور معاویہ میں گفتگو
جب وہ مدینہ میں آئی تو لوگ اس سے ملنے کے لئے گئے اور اميرالمؤمنين حسين رضي اللَّه عنه، عبداللَّه بن عمر، عبدالرحمن بن ابى بكر اور عبداللَّه بن زبير نے اس سے ملنا چاہا لیکن انہیں ملاات کی اجازت نہ دی گئی اور یہ لوگ رنجیدہ خاطر واپس چلے گئے اور مدینہ سے نکل کرے مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
اور اسی دوران ایک دن معاويه منبر پر گیا اور اس نے خداوند متعال کی حمد و ثناء کے بعد کہا: میں یہ نہیں جانتا کہ آج کوئی میرے بیٹے سے زیادہ مسند خلافت و حکومت کے لائق ہو؟ کیونکہ وہ ایسے فضائل کا حامل ہے کہ جو کسی اور میں نہیں ہیں لیکن ایک جماعت کو اس بات سے کوئی سروکار ہیں اور وہ میرے بیٹے سے ایسے عیوب منسوب کر رہے ہیں جو اس میں نہیں ہیں اور جب تک میری جانب سے انہیں کوئی تلکیف نہ پہنچے وہ یہ باتیں ترک نہیں کریں گے۔ انہیں یہ فضول باتیں ترک کر دینی چاہئیں اور انہیں اس زمانے کی مصلحت کا خیال رکھنا چاہئے ورنہ انہیں اسی چیز کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے وہ مستحق ہیں۔
اس کے بعد معاویہ نے کہا: اگر امام حسين عليه السلام ، عبدالرحمن ، عبداللَّه بن عمر اور ابن زبير کو رفاقت کی توفیق ملے تو وہ یزید کی بیعت کر لیں، اور بس؛ ورنہ ان کے ساتھ وہی کروں گا جو مجھے کرنا چاہئے۔ معاویہ نے ایسی ہی دھمکی آمیز باتیں کی۔ اور پھر وہ منبر سے اتر کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
اور جب عايشه تک یہ باتیں پہنچیں تو وہ غصہ کے عالم میں معاویہ کے پاس گئی اور اس سے کہا: یہ کوئی پسندیدہ بات نہیں تھی کہ تم نے میرے بھائی محمد کو مصر میں قتل کر دیا اور پھر اسے جلا دیا اور آج تم مدینہ میں آ کر میرے دوسرے بھائی کو تکلیف دے رہے ہو، اور اس کے بارے میں سخت باتیں کہہ رہے ہو اور فرزند رسول صلى الله عليه و آله و سلم، ابن عمر اور ابن زبير کو تکلیف دے رہے ہو اور انہیں قتل کرنے اور قید کر دینے کی دھمکیاں دے رہے ہو۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تم طلقاء میں سے ہو اور طلقاء کے لئے یہ حلال اور جائز نہیں ہے کہ وہ خلافت کی باگ ڈور سنبھالیں۔ تمہارا باپ لشکر احزاب میں سے تھا اور اس نے رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ اگر میں تمہیں اپنے بھائی کے قتل کے قصاص پر قتل کر دوں تو کون مجھے اس کام سے منع کرے گا۔
معاويه نے کہا: اے ام المؤمنین! آرام سے رہیں، آپ کے بھائی کو میں نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی میں نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے اور جب وہ علی بن ابی طالب ( علیہما السلام) کی طرف سے والی مصر تھا تو میں نے عمروعاص کو وہاں بھیجا اور اس نے عمرو اور معاوية بن حُدَيج کے ساتھ جنگ کی اور پھر انہوں نے اسے گرفتار کر کے قتل کر دیا اور میں اس کے قتل پر راضی نہیں تھا اور نہ ہی میں نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا اور میں اس کام میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں تھا۔ اور آپ نے یہ جو کہا ہے کہ میں تمہیں قتل کر دوں تو اس وقت میں رسول کے شہر مدینہ میں ہوں اور یہ مکان دار الأمان ہے۔
عائشه نے کہا: اگر ایسا ہے تو پھر میں نے یہ باتیں سنی ہیں کہ تم نے میرے بھائی، امام حسين عليه السلام ، عبداللَّه بن عمر اور میرے بھانجے کو ڈرایا دھمکایا ہے، اور یاد رکھو کہ تمہاری اور تم جیسے دوسرے افراد کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ ان چار بزرگ شخصیات کے بارے میں ایسی باتیں کریں۔
معاويه نے کہا: معاذ اللَّه! میں آپ کی رضائیت کے بغیر کوئی حکم صادر کرو اور یہ جماعت مجھے میری دو آنکھوں سے زیادہ عزیز ہے اور اگر کوئی ان میں سے کسی کو بھی تکلیف پہنچائے تو میں اسے دنیا میں زندہ نہیں چھوڑوں گا؛ لیکن میں نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کر دیا ہے اور اکثر اکابرین اور عام مسلمانوں نے اس کی بیعت کر لی ہے اور وہ لوگ یزید کی خلافت پر راضی ہو گئے ہیں اور یہ چار افراد اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس کی بیعت کرنے کے لئے راضی نہیں ہو رہے اور اب کیا آپ یہ جائز سمجھتی ہیں کہ اس تاکید یافتہ تقرر کو چھوڑ دوں اور اسے ترک کر دوں۔
عائشه نے کہا: مجھے یزید کی بیعت تورنے سے کوئی سروکار نہیں ہے اور میں یہ پیمان توڑنے کے بارے میں بھی کچ نہیں کہہ رہی لیکن میں یہ تاکید کر رہی ہوں کہ ان چار افراد کے لئے نرمی سے بات کرو اور ان کے بارے میں کوئی ایسا حکم صادر نہ کرو کہ جس میں کوئی کراہت ہو اور اگر ایسا ہوا تو مجھےتمہارے انجام اور مکافات کا سوچنا پڑے گا۔ اے معاویہ! خدا کو حاضر و ناظر سمجھو۔ قبر کی تنگی اور اس غدار دنیا کی جدائی سے ڈرو اور کوئی ایسا کام نہ کرو کہ تمہیں پشیمان ہونا پڑے۔
معاویہ نے کہا: آپ نے جو فرمایا؛ میں نے اسے قبول کیا اور اس کے بعد میں آپ کے قول پر عمل کروں گا کہ جس میں فلاح و نجات ہے۔ عائشہ اس سے راضی ہو گئی اور اپنے حجرہ میں واپس چلی گئی۔ معاویہ نے رفقاء اربعہ کو طلب کیا تو کہا گیا کہ وہ مکہ کی جانب چلے گئے ہیں۔ (۱)
1) تاريخ روضة الصفا: 2152/5.
منبع: معاويه ج ... ص ...








