Imam Shadiq As: seandainya Zaman itu aku alami maka seluruh hari dalam hidupku akan berkhidmat kepadanya (Imam Mahdi As
(۱) اميرالمؤمنين حضرت امام علی عليه السلام کی اپنی عمر کے آخری وقت امام حسن مجتبي عليه السلام کو نصیحت کرنا

(۱)

اميرالمؤمنين حضرت امام علی عليه السلام کی اپنی عمر کے

آخری وقت  امام حسن مجتبي عليه السلام کو نصیحت کرنا

وہ نصیحت جو امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام نے اپنے بڑے بیٹے امام حسن مجتبى صلوات اللَّه عليه کو اپنی عمر کے آخری وقت میں کی۔ اربلى رحمه الله نے كتاب «كشف الغمّه» میں اس طرح سے نقل کرتے ہیں۔

امام حسن مجتبى عليه السلام نے فرمایا:

 میں اپنے بابا على عليه السلام کے پاس اس وقت آیا جب آنحضرت، ابن ملجم لعنه اللَّه کی تلوار کے وار سے تڑپ رہے تھے، آپ کو دیکھ کر مجھ میں طاقت نہ رہی اور میں غم سے نڈھال ہو گیا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا بے تاب ہو گئے ہو؟

میں نے عرض كیا: میں کیسے بے تاب نہ ہوں جب کہ میں آپ کو اس درد اور مصیبت میں دیکھ رہا ہوں؟

آپ نے فرمایا:

 ألا اُعلّمك خصالاً أربع إن أنت حفظتهنّ نلت بهنّ النجاة، وإن أنت ضيّعتهنّ فاتك الداران؟

يا بنيّ ؛ لا غنى أكبر من العقل، ولا فقر مثل الجهل، ولا وحشة أشدّ من العجب، ولا عيش ألذّ من حسن الخلق.

 کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں چار ایسی صفات کی تعلیم دو کہ اگر تم ان کا خیال رکھو گے تو دائمی نجات اور سعادت نصیب ہو گی اور اگر ان کو بھلا دیا تو دنیا و آخرت کی سعادت سے محروم ہو جاؤ گے؟

اے میرے بیٹے! عقل و دانش سے بڑھ کر کوئی دولت و ثروت نہیں ہے۔ فقر جہالت کی مانند نہیں ہے۔ وہ خوف جو لوگوں سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے ہوتا ہے وہ غرور وتکبر سے سخت نہیں ہے اور جو شخص خوش اخلاق ہے اس کی زیادہ کوئی زندگی سے لذت حاصل نہیں کرتا.(1)

 


1) كشف الغمّة: 572/1، بحار الأنوار: 111/78 ح 6.

 

منبع: فضائل اہلبيت عليہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: ج 1 ص 372

 

Mengunjungi : 853