امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(6) جنگ خیبر میں حضرت اميرالمؤمنين عليه السلام کی شجاعت

(6)

جنگ خیبر میں حضرت اميرالمؤمنين عليه السلام کی شجاعت

جابر بن عبداللَّه انصارى کہتے ہیں :

جب جنگ خيبر میں رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے على صلوات اللَّه عليه وآله کی آنکھ کے لئے شفاء کی دعا فرمائی اور پرچم اسلام آپ کے حوالہ کیا تو آپ نے اپنے ماتحت تمام فوج کو حکم دیا کہ قلعہ خيبر کی طرف جلدی سے روانہ ہو جائے.

آپ  کے ساتھیوں نے کہا:تھوڑا آہستہ چلیں کہ ہم بھی قلعہ تک پہنچ سکیں ، جب وہ لوگ پہنچے تو على عليه السلام نے در خیبر اتھاڑ کر زمین پر گرا دیا تھا.

پھت ستر لوگ اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے انتہائی کوشش کی کہ وہ دروازے کو اپنی جگہ واپس لے جائیں .(1)

اور ابوعبداللَّه جدلى بھی کہتے ہیں: میں نے امير المؤمنین على صلوات اللَّه عليه سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

میں نے جنگ خيبر  میں قلعہ کے دروازہ کو اکھاڑ کر اپنی ڈھال بنایا اور ان کے ساتھ جنگ کی ، پھر جب میں کامیاب ہو گیا اور خدا نے ان لوگوں کو ذلیل و رسوا کیا تو میں ںے اس دروازہ کا پل بنایا اور پھر اسے خندق میں گرا دیا۔

کسی شخص نے پوچھا:آپ نے اس کا وزن کس قدر محسوس کیا؟

 حضرت نے فرمایا:

 ما كان إلّا مثل جُنّتي الّتي في عدتي في غير ذلك المقام ؛

اس کا وزن اس سپر کی مانند ہے جو میرے ہاتھ میں ہے اور دوسرے مواقع پر اس سے استفادہ کرتا ہوں.

اس بارے میں کسی شاعر نے کہا ہے:

 إنّ امرءاً حمل الرتاج بخبير            يوم اليهود بقدرة لمؤيّدُ

 حمل الرتاج ، رتاج باب فوقها         والمسلمون وأهل خيبر حشدوا

 فرمى به ولقد تكلّف ردّه               سبعون كلّهم له متشدّد

 ردّوه بعد مشقّة وتكلّف               ومقام بعضهم لبعض أرندوا (2)

بیشک اس شجاع مرد نے یہودیوں کے ساتھ جنگ خيبر میں در خیبر کو قدرت خدا سے اکھاڑا۔ انہوں نے قلعہ کے سب سے بڑے دروازہ کو اکھاڑ کر یوں بلند کیا کہ تمام مسلمانوں اور خیبریوں نے اسے دیکھا۔ پس اس شیر خدا نے در خبیر کو ہوا میں اڑا دیا کہ جسے ستر طاقتور آدمی بڑی مشکل سے جابجا کرتے تھے۔بہت سے طاقتور افراد نے ایک دوسرے کی مدد کے ذریعہ بڑی مشکل سے اسے اپنی جگہ پر واپس پلٹایا

 


1) اس روایت سے مشابہ «المناقب : 145/3» و «بحار الأنوار : 96/41 ضمن ح 14» میں بھی نقل ہوئی ہے .

2) نوادر المعجزات : 44 ح 16 ، عيون المعجزات : 37 ، مدينة المعاجز : 476/1 ح 312 ، بحار الأنوار : 346/57 ح 36 .

 

      منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام  کے  بحر  بیکراں  سے  ایک  ناچیز  قطرہ :ج 2 ص 329

 

بازدید : 701