(1)
معاويه کا قيس کو خط اور ان کا جواب
ابراهيم ثقفى کہتے ہیں: اميرالمؤمنين على عليه السلام جنگ جمل کے لئے گئے جب کہ اس وقت قیس مصر کا حاکم تھا اور جب وہ بصرہ سے کوفہ واپس آئے تو مصر پر اسی طرح قیس کی حکومت تھی اور معاویہ پر ان کا وجود سب لوگوں سے زیادہ گراں گزر رہا تھا؛ کیونکہ مصرف اور اس کے توابع شام سے نزدیک ہیں اور معاویہ کو یہ خوف تھا کہ کہیں امیر المؤمنین علی علیہ السلام عرقا کے لوگوں کے ساتھ اور قیس مصر کے لوگوں کے ساتھ اس پر حملہ نہ کر دے اور وہ ان دونوں میں پھنس گیا تھا لہذا اس سے پہلے کے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کوفہ سے صفین کی طرف روانہ ہوتے ،معاویہ نےقيس بن سعد بن عبادة کے لئے یوں لکھا:
معاوية بن ابى سفيان کی طرف سے قيس بن سعد کے لئے! تم پر سلام ہو! تمہارے ساتھ اس خدا کی پرستش کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں. امّا بعد!
بیشک اگر عثمان کے خلاف آپ کی بغاوت ایک بدعت کی وجہ سے تھی کہ جسے آپ نے دیکھا، یا اس کی وجہ وہ تازیانہ تھے جو اس نے مارے یا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک شخص کو دشنام دیتا تھا اور دوسرے کی سرزنش کرتا، یا یہ کہ وہ اپنے خاندان کے نوجوانوں کو کام پر رکھتا تھا، وہ خود کو عظیم سمجھتے تھے کہ ان کا خون بہانا روا نہیں ہے اور یہ کام تمہارے لئے جائز نہیں ہے لیکن وہ خود گناہان کبیرہ اور سخت ناپسندیدہ امور کو انجام دینے کا مرتکب ہوا ۔ اب اے قیس! اگر تم ان لوگوں میں سے تھے کہ جنہوں نے لوگوں کو اسے قتل کرنے کے لئے ورغلایا ،تو خدا کی بارگاہ میں توبہ کرو کیونکہ موت سے پہلے ممکن ہے کہ توبہ کارساز ہو۔
لیکن ہمیں تمہارے سالار(علی علیہ السلام) کے بارے میں یہ یقین ہے کہ اس نے لوگوں کو قتل عثمان کے لئے ورغلایا!! اور آخر کار اسے قتل کر دیا۔ بیشک تمہاری اکثر و بیشتر قوم عثمان کے قتل سے دور نہیں ہے۔ اے قیس! اب اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تم عثمان کے خونخواہوں کے زمرہ میں شامل ہو تو تو ایسا کرو اور اس کام میں علی(علیہ السلام) کے خلاف ہماری پیروی کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو میں جب تک زندہ ہوں دو عراق (کوفہ و بصرہ) کی حکموت تمہاری ہو گی اور تم اپنے خاندان کے جس فرد کے لئے کہو گے اسے حجاز کی حکومت دی جائے گی اور اس سے بھی بڑھ کر تم مجھ سے جو چاہو گے تمہیں دوں گا اور میں نے تمہارے لئے جو کچھ لکھا اس کے جواب میں اپنا ارداہ لکھ دو۔
جب معاویہ کا خط قیس تک پہنچا تو وہ اسے آج اور کل کہہ کر ٹالنا چاہتا تھا تا کہ اس پر اپنے امور آشکار نہ کرے اور اس کے خلاف اعلان جنگ کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لے، اسی وجہ سے انہوں نے معاویہ کے خط کے جواب میں لکھا:
امّا بعد! تمہارا خط مجھے ملا اور تم نے عثمان کے بارے میں جو کچھ لکھا میں اسے سمجھ گیا ۔ یہ وہ عمل ہے کہ میں جس کے قریب بھی نہیں گیا ۔ تم نے لکھا تھا کہ میرا سالار وہ ہے کہ جس نے لوگوں کو عثمان کے خلاف بغاوت کے لئے ورغلایا اور یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا! یہ بھی ایک ایسا عمل تھا کہ جس سے میں آگاہ نہیں ہوں۔ اور تمہیں نے تذکر دیا تھا کہ میرے خاندان کے اکثر و بیشتر افراد بھی قتل عثمان سے دور نہیں ہیں حالانکہ مجھے میری جان کی قسم! میرے رشتہ دار سب لوگوں سے زیادہ اصلاحی امور کی کوشش کرتے ہیں۔
تم نے عثمان کی خونخواہی کے سلسلہ میں مجھ سے جو بیعت کا تقاضا کیا ہے اور مجھے جن چیزوں کی پیشکش کی ہے ، میں انہیں سمجھ گیا ہے اور یہ ایسا کام ہے جس کے لئے مجھے سوچپنے سمجھنے کا وقت چاہئے اور میں اس میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتا ۔بحر حال اب میرے ہاتھ تمہارے لئے کھلے ہیں اور میری طرف سے کوئی ایسا عمل رونما نہیں ہو گا جو خوش آئند نہ ہو۔ یہاں تک تم اپنے خداوند متعال کی مشیت کے بارے میں سوچو اور ہم بھی سوچیں ۔ تم پر سلام اور خدا کی رحمت و برکات ہوں۔
ابراهيم ثقفى کہتے ہیں: جونہی معاویہ نے قیس کا خط پڑھا کہ جس میں کبھی وہ معاویہ سے قریب اور کبھی دور ہو جاتا ہے ( اس نے اسے دو طرفہ پایا) لہذا اس نے امان محسوس نہ کی کہ اس بارے میں کوئی چال بازی اور دھوکا و فریب کے بارے میں نہ سوچے ۔لہذا اس نے قیس کے لئے یوں لکھا:(2515)
امّا بعد! میں نے تمہارا خط پڑھا اور میں نے تمہیں نہ تو اتنا نزدیک پایا کہ تمہیں صلح کی حالت میں اور اپنا دوست سمجھوں اور نہ اتنا دور پایا کہ تمہیں حالت جنگ میں اور اپنا دشمن سمجھوں۔ میں نے تمہیں کنویں کی رسّی کی طرح پایا کہ جس نے اس کی گہرائی کو دیکھا اور جو میری طرح فریب نہیں کھاتی تھی۔اب اگر تم میری پیشکش کو قبول کرو گے تو میں تمہیں وہ عطا کروں گا اور اگر قبول نہیں کرو گے تو میں تمہارے خلاف مصر کو سواروں اور پیادوں سے بھر دوں گا۔ والسلام
جب قیس نے معاویہ کا خط پڑھا تو وہ سمجھ گیا کہ معاویہ اسے مزید طول نہیں دینا چاہتا اور اب وہ آج اور کل کرنے کو قبول نہیں کرے گا تو ان کے دل میں جو کچھ تھا معاویہ کے لئے آشکار کر دیا اور اس کے لئے لکھا:
قيس بن سعد کی طرف سے معاوية بن ابى سفيان کے لئے:
امّا بعد! حیرت ہے کہ تم نے مجھے ایک چھوٹی سوچ کا مالک سمجھا اور تم نے مجھے دھوکا و فریب دینا چاہا اور تم مجھے اسی راہ پر چلانا چاہتے ہو جس پر خود چل رہے ہو( تمہارے سوا کوئی بدبخت ہو سکتا ہے) تم مجھے ایسے انسان کی اطاعت سے خارج کرنا چاہتے ہو جو سب لوگوں سے زیادہ حکومت کا حقدار ہے ، جو سب سے زیادہ گو ہے اور جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سب سے زیادہ نزدیک ہے۔ اور تم مجھے یہ حکم دے رہے ہو کہ میں تمہاری اطاعت میں آ جاؤں کہ جو حکومت کے لئے سب سے زیادہ دور، سب سے زیادہ جھوٹا، سب سے زیادہ گمرا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سب سے زیادہ دور ہے۔ تمہارت ساتھ گمراہ اور گمراہ کرنے والی قوم اوت شیطان کے طاغوت جمع ہوئے ہیں۔ اور تم نے یہ جو کہا ہے کہ تم میرے خلاف مصر کو سواروں اور پیادوں سے بھڑ دو گے؛ اگر میں تمہیں اس کام سے نہ روکوں اور تمہیں اس کا موقع مل جائے تو تم خوش نصیب ہو گے۔ والسلام
جب معاویہ کو قیس کا یہ خط ملا تو وہ ناامید ہو گیا اور اس کے لئے مصر میں ان کا مقام اس پر بھاری پڑا۔قیس کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو وہ معاویہ کے لئے خوش آئند اور مطلوب ہوتا کیونکہ وہ قیس کی شجاعت، طاقت، بہادی اور سختی سے واقف تھا.(2516)
2515) الغارات کے صفحات: 213 - 216 چاپ استاد فقيد سيّد جلال الدين محدّث اور ترجمه الغارات بقلم آقا كمره اى ص 80 کی طرف رجوع فرمائیں.
2516) جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: 196/3.
منبع: کتاب معاویه ج ... ص ...








