امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(2) جنگ صفّین

(2)

جنگ صفّین

نیز مجالس میں عبداللہ نے اور انہوں نے اپنے والد شریک سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے: جب امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اہل جمل کو شکست دی تو فرمایا کہ بھاگ جانے والوں کا پیچھا نہ کرو اور زخمیوں کو قتل نہ کرو اور جو کوئی بھی اپنا خیمہ باندھ لے وہ امان میں ہے اور جب جنگ صفین رونما ہوئی تو فرمایا:مخالف لشکر میں سے اگر کوئی ہار بھی مان جائے تو اسے قتل کر دو، ان کے زخمیوں کا کام بھی تمام کر دو اور انہیں قتل کر دو۔

اس مرتبہ ابان بن تغلب نے کہا کہ ان دو جنگوں میں حضرت امیر علیہ السلام کے دو مختلف کاموں کے بارے میں کیا کہہ رہے ہو؟

پس میں نے جواب میں کہا کہ چونکہ جنگ جمل میں فرقۂ باغیہ کے سربراہ طلحہ و زبیر تھے اور وہ دونوں قتل ہو گئے تو فتنہ کی آگ ٹھنڈی ہو گئی اور حق اپنی جگہ برقرار ہو گیا  اور بقیۃ السیف کو قتل کرنے میں مصلحت نہ جانی اور صفین کی جنگ میں باغیوں کا سربراہ معاویہ ابھی باقی تھا اس لئے جنگ میں شکست کھانے والوں اور زخمیوں میں سے ہر ایک اس کے فساد کو تقویت دینے کا باعث تھا لہذا ان کے قتل کا حکم دیا۔

الحق و االانصاف؛شریک نے ابان کے جواب میں بہت خوب کہا ہے اور اس میں قیمتی در پوشیدہ ہیں.(163)


163) گلزار اكبرى: 286.

 

منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات:ص 120

 

 

بازدید : 718