امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۳) عمروعاص اور معاويه کا اميرالمؤمنين‏ عليه السلام کی حقّانيّت کا اقرار کرنا

(۳)

عمروعاص اور معاويه کا اميرالمؤمنين‏ عليه السلام  کی حقّانيّت کا اقرار کرنا

   مسعودى نے «مروج الذهب» میں ابومخنف لوط بن يحيى سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا:جنگ صفین میں شرکت کرنے والوں میں سے ایک ابن الأعز تيمى تھے، انہوں نے کہا: میں جنگ صفين میں موجود تھا کہ عبّاس بن ربيعه اسلحہ میں چھپے ہوئے میرے سامنے سے گزرے  انہوں نے اس انداز سے زرہ پہنی ہوئی تھی کہ صرف ان کی آنکھیں دکھائی دے رہی تھی اور چونکہ افعی کی آنکھیں جنگی ٹوپی میں سے دکھائی دے رہی تھی، اس کے ہاتھ  میں ایک یمانی تلوار تھی جسے وہ ہوا میں لہرا رہا تھا اور اپنے سرکش گھوڑے پر سوا تھا۔

اسی دوران ایک  شامى سپاہی بنام عرار بن ادهم نے عبّاس کو پکار کر کہا: اے عبّاس؛ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ.

   عبّاس نے اس سے کہا: گھوڑے سے اترو کہ یہ قتل کرنے کے لئے زیادہ مناسب ہے۔

شامى (عرار بن ادهم) اپنے گھوڑے سے نیچے اترا اوراس نے کہا: اگر سوار ہو تو سوار ہونا ہماری عادت ہے اور اگر تم پياده ہو جاؤ تو ہم بھی پیادہ ہیں۔

عبّاس نے شامى شخص سے کہا: خدا جانتا ہے کہ ہم تمہیں پسند نہیں کرتے اور میں تمہاری بھی ملامت نہیں کرتا کہ تم کہوں ہمیں پسند نہیں کرتے ، اسی وقت اس نے اپنی زرہ کے بند کمر سے باندھ دیئے اور اپنا گھوڑا اپنے ساتھ موجود غلام کے سپرد کیا اور شامی شخص کی جانب بڑھ کر حملہ کیا۔

دو لشکر (سپاہ کوفہ و شام) اپنے گھوڑوں کی لگامیں کھینچ کر دیکھ رہے تھے کہ یہ دونوں کیا کرتے ہیں؟ ان دونوں نے کافی دیر تک ایک دوسرے سے تلوار کے ساتھ جنگ کی لیکن کوئی بھی دوسرے پر کامیاب نہ ہو سکا، کیونکہ دونوں کی زرہ کامل تھی یہاں تک کہ عباس نے شامی شخص کی زرہ میں رخنہ دیکھا اور اپنے ہاتھ سے اسے اس طرح سے کھینچا کہ وہ سینہ تک شگافتہ ہو گئی اور پھر اپنی تلوار شامی شخص کے سینہ میں اتار دی اور شامی منہ کے بل زمین پر گر گیا۔

اس وقت سپاہ کوفہ نے تکبیر کہی کہ ان کے پاؤن تلے زمین لرز گئی۔ پھر عباس کوفہ کے لوگوں کی طرف واپس پلٹ گئے اور اسی لمحہ کسی شخص نے میرے پیچھے آیت پڑھی کہ جس کا مضمون کچھ یوں ہے:«ان سے جنگ کرو تا کہ خدا تمہارے ہاتھوں سے انہیں عذاب دے اور انہیں خوار کرے اور تمہیں ان پر کامیابی عطا کرے اور مؤمنوں کے دلوں کو ٹھنڈا (شاد) کرے »، میں نے على ‏عليه السلام کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: اے ابن اعز !هماورد ہمارا دشمن  تھا؟

میں نے کہا:آپ کا بھتیجا  عبّاس بن ربيعه تھا.

   فرمایا:یہی عبّاس تھا؟

   فرمایا: جی ہاں.

فرمایا: اے عبّاس؛ کیا میں نے تمہیں اور عبداللَّه بن عبّاس سے نہیں کہا تھا کہ دھوپ میں نہ جانا اور جنگ میں شریک نہ ہونا؟

 عبّاس نے کہا: يا اميرالمؤمنين! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی مجھے جنگ کے لئے بلائے اور میں قبول نہ کروں۔

   على‏ عليه السلام نے فرمایا:

اطاعت امامت، دشمن کی دعوت کو قبول کرنے سے بہتر ہے۔

امام ‏عليه السلام پہلے غضبناک ہوئے اور پھر پرسکون ہو گئے تو دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کہا:

پروردگارا!عبّاس کے اس عمل کا اسے اجر عطا فرما اور اس کے گناہوں کو بخش دے ، خدايا! میں  نے اسے بخش دیا اب تو بھی اسے بخش دے۔

معاويه کو عرار بن ادهم کی موت کا بہت افسوس تھا اور وہ بہت غمگین تھا۔ اس حالت میں اس نے کہا:لیکن کیا اس کی مانند کوئی پہلوان ہے کہ جس کا خون پامال ہو ، کیا کوئی ہے جو فداکاری کرے اورعرار کے خون کا انتقام لے ؟

قوم لخم دو شجاعوں اور شام کے بزرگوں نے اس کام کو قبول کیا، معاویہ نے کہا: جاؤ تم میں سے جس نے بھی عباس کو قتل کیا اسے سونے کے سو اوقيه ،چاندی کے سواوقيه نقره اور دو سو بُرد يمنى عطا کروں گا.

وہ دونوں عبّاس کی طرف آئے اور انہیں جنگ کے لئے طلب کیا اور دونوں صفوں میں بلند آواز سے کہا: اى عبّاس! ہم سے جنگ کے لئے آؤ۔

عبّاس نے شامى مردوں کو طرف رخ کر کے کہا:میرا امام ہے، میں ان کے اجازت لے لوں اور پھر وہ امام علی علیہ السلام کی طرف گئے۔

اس دوران على‏ عليه السلام دائیں جناح لوگوں کو جنگ ی ترغیب دلا رہے تھے۔ عبّاس نے سارا واقعہ آپ کی خدمت میں بیان کیا توعلى ‏عليه السلام نے فرمایا:

معاویہ یہ چاہتا ہے کہ بنی ہاشم میں سے کوئی بھی زندہ ہہ رہے مگر اس کا پیٹ نور خدا کو بجھانے کے لئے درد کر رہا ہے اور اور خدا یہ قبول نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ خود بجد جائے، اگرچہ کافروں سے کرہت رکھتاہو۔خدا ہم میں سے ایک شخص کو ان پر مسلط کرے گا اور انہیں عذاب دے گا اور ان کے آثار مٹا دے گا۔ اے عباس! تم اپنا اسلحہ مجھ سے تبدیل کرو۔

عبّاس نے اسلحہ (زره،شمشير اور خود) سلاح على ‏عليه السلام سے خود کو تبدیل کیا. على‏ عليه السلام عبّاس کے گھوڑے پر سوار ہوئے اور تیزی سے اس قوم لخم کے ان دو مردوں کی طرف بڑے اور انہیں یہ شک نہ ہوا کہ وہ عباس نہیں ہیں اور پھر انہوں نے کہا: تمہارے دوست نے تمہیں اجازت دے دی ہے؟

وہ (على‏ عليه السلام) ہاں نہیں کہنا چاہتے تھے۔ لیکن آپ نے ایک آیت پڑھی ہ جس کا مضمون کچھ یوں ہے:«جنہوں نے ظلم و ستم دیکھا ہے وہ جنگ کرتے ہیں اور خدا انہیں کامیاب کرنے پر قادر ہے ».

عبّاس کی چال اور سوار سب سے زیادہ على‏ عليه السلام سے مشابہ تھی۔ قوم لخم کے دو مردوں میں سے ایک نے علی علیہ السلام پر حملہ کیا تو اس کا کام تمام کر دیا اور پھر دوسرے نے حملہ کیا تو اسے بھی پہلے کے پاس بھیج دیا۔ پھر آپ آئے اور اس مضمون پر مشتمل آیت پڑھی: «ماه حرام کے مقابلہ میں ماه حرام ہے اور محرّمات کا قصاص ہے، جو کوئی بھی تمہاری طرف تجاوز كرے گویا اس نے ان کی طرف تجاوہ ».

پھر على‏ عليه السلام نے ان سےفرمایا: اے عبّاس! اپنا اسلحہ لے لو اور میرا اسلحہ واپس کر دو اور اگر کوئی تمہاری طرف آیا تو تم میرے پاس آؤ۔

جب معاويه کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے کہا:لج بازی پر لعنت ہو کہ جو زحمت کا سبب ہو میں نے جب بھی لج بازی کی میں بیچارہ ہو گیا۔

عمرو بن عاص نے کہا: بيچاره تو قوم لخم کے وہ دو مرد تھے اورمغرور وہ ہے کہ جسے تم فریب دو، تم بیچارہ نہیں ہو۔

معاويه نے عمروعاص سے کہا: خاموش ہو جاؤ،اس کام سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

عمرونے کہا:اگر اس کام سے میرا کوئی لینا دینا ہیں ، پس خدا ان دو بیچارہ لخمیوں کو بخش دے اور میرا نہیں خیال کہ تو انہیں بخش دے گا۔

معاويه نے کہا:تم جو کچھ کہہ رہے ہو، یہ تمہارے لئے زیادہ نقصان کا باعث ہے۔

عمرو نے کہا:میں یہ جانتا ہوں، اگر مصر کی حکومت کے لئے نہ ہوتا تو میں اپنی اس حالت سے نجات پا جاتا کیونکہ میں جانتا ہوں علی بن ابیطالب حق پر ہیں اور تم معویہ حق کے بر خلاف ہو۔

معاويه نے کہا: خدا کی قسم! مصر کی حکومت کے لالچ نے تمہاری آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے اور اگر مصر کی حکومت نہ ہوتی تو تمہارے پاس بصیرت ہوتی ۔ پھر معاویہ قہقہ لگا کر ہنسا۔

عمرو عاص نے کہا: ا امير المؤمنین!! ہمیشہ ہنستے رہو،مگر اب تم کس لئے ہنس رہے ہو؟

معاويه نے کہا: تمہیں یاد ہے جب تم علی کے روبرو ہوئے تھے تو تم نے اپنی شرمگاہ دکھا دی تھی ، مجھے اس وجہ سے ہنس رہا ہوں۔ عمرو کے خدا کی قسم! تم خطرہ کا مقابلہ کرنے گئے اور تم نے اپنی آنکھوں سے موت کو دیکھا اور اگر علی علیہ السلام چاہتے تو تمہیں قتل کر دیتے لیکن فرزند ابوطالب نے اپنے کرم سے تمہیں قتل کرنے سے گریز کیا۔

عمرو نے کہا: معاويه کے خدا کی قسم! میں اس دین تمہارے ساتھ تھا اور علی علیہ السلام تمہیں جنگ کے لئے بلا رہے تھے اور تمہاری آنکھیں ایسے ہو گئیں تھی کہ مجھ بتاتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے! اس بناء پر یا اپنے آپ پر ہنسو یا اس واقعہ کو بھول جاؤ(625).(626)


625) مروج الذهب مسعودى، ترجمه پائنده، بنگاه ترجمه و نشر كتاب: ج 2 ص 24 - 22.

626) پيشنگوئی‏ هاى اميرالمؤمنين‏ عليه السلام: 426.

 

منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات: ص 464

 

بازدید : 758