امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(4) جنگ صفين کے بارے میں پیغمبر صلى الله عليه وآله وسلم کی پیشنگوئی

(4)

جنگ صفين کے بارے میں

پیغمبر صلى الله عليه وآله وسلم کی پیشنگوئی

جنگ صفین اور حکمیّت کے مسئلہ  کے بارے میں پيغمبر اكرم ‏صلى الله عليه وآله وسلم کی پیشنگوئیاں اس قدر واضح و روشن ہیں کہ اگر مسلمان اس بارے میں تھوڑا سا غور کریں تو وہ بخوبی متوجہ ہو جائیں گے کہ معاویہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حکم کے برخلاف جنگ صفین میں عمل کیا۔

اس حقیقت کی وضاحت کے لئے ہم یہاں اصل واقعہ نقل کرتے ہیں اور پھر اس  کے بارے میں اہم نکات بیان کریں گے:

جنگ بنی قریظہ اور اس کے منحوس نتائج(کہ اس کا سبب حیّ بن أخطب یہودی تھا) کے بعد سنہ پانچ ہجری میں مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ مدینہ کے شمال میں «دومة(1) الجندل»کے علاقہ میں کچھ راہزن کاروانوں کے لئے راستہ بند کرکے انہیں لوٹ لیتے ہیں۔

   پيامبر خدا صلى الله عليه وآله وسلم ایک ہزار اصحاب کے ساتھ ۲۵ ‏ربيع الأوّل سنہ پانچ هجرى کو مدینہ سے دومة الجندل کی طرف روانہ ہوئے.

جب راہزنوں نے لشکر اسلام کو دیکھا تو سب بھاگ گئے لیکن ان کے کچھ اموار و مویشی مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئے ۔ «دومةالجندل» میں قیام کے دوران رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کر کے (وہاں ابوموسى اشعرى بھی موجود تھا)فرمایا:

میرے بعد یہاں میرے صحابیوں میں سے دو لوگ فیصلہ کرنے کے لئے بیٹھیں گے اور ان کا فیصلہ ظلم و ستم پر مبنی ہو گا جیسا کہ بنی اسرائیل میں سے بھی دو افراد نے اس مقام پر ظلم پر مبنی فیصلہ کیا تھا۔

رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے سنہ پانچ ہجری میں یہ پیشنگوئی فرمائی اور تیس سال کے بعد یہ وقوع پذیر ہوئی۔ کیونکہ جنگ صفّين میں اميرالمؤمنين على ‏عليه السلام کو حكميّت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔اميرالمؤمنين على ‏عليه السلام میں سے ابوموسى اشعرى کا انتخاب ہوا كه امام‏ علی عليه السلام اس کے انتخاب پر راضى نہیں تھے،جب کہ معاویہ کا نمائندہ عمروعاص تھا.

یہ دو افراد «دومة الجندل» کے مقام پر فیصلہ کرنے کے لئے بیٹھے اس فیصلہ میں اگرچہ ابوموسى اشعری،اميرالمؤمنين على ‏عليه السلام کا نمائندہ تھا لیکن اس نے خیانت کی اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو خلافت سے معزول کر دیا کہ جو آپ کا مسلّم حق تھا ،لیکن عمرو عاص نے اپنے ولی نعمت یعنی معاویہ کی خلافت کا حکم دیا۔

جس طرح ابن ابى الحديد اور تمام اہلسنت دانشوروں نے لکھا ہے کہ حکمیت کے بارے میں رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے اس کے واقعہ کے وقوع پذیر ہونے سے تیس سال پہلے اس بارے میں پیشنگوئی فرمائی جو سب لوگوں کے لئے یہ ثابت کرتی ہے کہ واقعۂ حکمیت میں حضرت اميرالمؤمنين ‏على ‏عليه السلام پر ظلم ہوا کہ جس کی وجہ سے معاویہ نے ظلم و ستم سے خلافت کی کرسی پر غاصبانه طور پر تكيه کیا.


1) دومة يا دوما، حضرت اسماعيل‏ عليه السلام کے فرزند کا نام تھا.

 

منبع: کتاب معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 767