امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(2) عثمان کے خلاف بغاوت اورشورش کا آغاز

(2)

عثمان کے خلاف بغاوت اورشورش  کا آغاز

عبد الملک بن عمیر زہری کہتے ہیں: عثمان نے سپاہ کے سربراہوں، معاویہ بن ابو سفیان، سعید بن عاص، عبد اللہ بن عامر، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح اور عمر عاص کو جمع کیا اور کہا:تم سب اپنی رائے پیش کرو کہ لوگ مجھ سےکیوں پریشان ہیں۔

معاویہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ سپاہ کے امیروں کو حکم دو کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے علاقہ کو سنبھالے اور شام کے لوگوں کی ذمہ داری میں اپنے ذمہ لیتا ہوں۔

عبد اللہ بن عامر نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ انہیں جنگوں میں سرگرم رکھو تا کہ کسی کو بھی اپنے زخموں کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں نہ سوچنے کا موقع نہ ملے اور وہ تمہارے خلاف پھیلائی گئی باتوں پر کان نہ دھریں۔

عبداللَّه بن سعد بن ابى سرح نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان کا غصہ کس وجہ سے ہے، پھر انہیں راضی کرو اور اس مال میں سے ان کے درمیان تقسیم کرو۔

عمرو بن عاص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے عثمان! تم نے بنی امیہ کو لوگوں پر سوار کر دیا ہے، وہ لوگ یہ کہتے ہیں اور تم نے ان پر ستم کیا ہے اور انہوں نے بھی ستم کیا، معتدل بنو اور اگر کوئی ارادہ نہیں کرنا چاہتے اور کچھ کر نہیں سکتے تو برطرف ہو جاؤ۔

عثمان نے کہا: کیا تم سنجیدہ طور پر یہ بات کہہ رہے ہو؟

عمرو کافی دیر تک خاموش رہا اور جب وہ لوگ وہاں سے چلے گئے تو اس نے کہا: امیر المؤمنین کے خدا کی قسم! تم میرے نزدیک اس سے زیادہ عزیز ہو۔ لیکن میں چاہتا تھا کہ وہاں موجود کچھ لوگوں تک یہ بات پہنچ جائے کہ تو نے مجھے مشورہ کے لئے بلایا ہے اور میں یہ چاہتا تھا کہ میری بات ان تک پہنچ جائے اور تمہاری طرف خیر لا سکوں یا تم سے شرّ کو دور کر سکوں۔

پس عثمان نے اپنے کارندوں کو ان کی ماموریت کے علاقہ میں بھیجا اور ان سے کہا: جو لوگ وہاں موجود ہیں ان پر سختی کرو۔ نیز یہ بھی کہا کہ جو لوگ سپاہ میں ہیں انہیں دیر تک وہاں مأمور رکھاجائے اور ان کی تنخواہ روک دی جائے تا کہ وہ لوگ مطیع بن جائیں اور اس کے محتاج بن جائیں۔ سعید بن عاص کو بھی کوفہ کی طرف بھیجا تو مسلح لوگ اس  سے مقابلہ کے لئے آ گئے اور اسے واپس بھیج دیا اور اس سے کہا: نہیں؛ خدا کی قسم ! جب تک ہمارے ہاتھ میں تلوار ہے تب تک کوئی بھی ہم پر اپنی مرضی نہیں چلا سکتا۔

ابويحيى عمير بن سعد نخعى کہتے ہیں: گویا اشتر، مالک ب حارث نخعی کو دیکھ رہا ہوں کہ ان کے چہرے پر غبار ہے اور انہوں نے شمشیر آویزاں کی ہوئی ہے اور وہ کہہ رہے تھے: خدا کی قسم! جب تک ہمارے ہاتھ میں تلوار ہے، کوفہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ان کی مراد سعید تھا اور یہ جرعہ کے دن تھا۔ جرعہ ،قادسیہ کے نزدیک ایک بلند مقام ہے کہاں کوفہ کے لوگوں کا سعید سے سامنا ہوا۔

ابی ثور حدائی کہتے ہیں: جرعہ کے دن لوگوں نے سعید بن عاص کے ساتھ ایسا کہا تو حذيفة بن يمان ، ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری کے پاس گئے کہ جو مسجد کوفہ میں تھے۔ ابو مسعود اس واقعہ کو اہم شمار کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: میرے مطابق وہ اب واپس نہیں آئے گا مگر یہ کہ خونریزی ہو۔

حذيفه نے کہا:خدا کی قسم! وہ واپس آئے گا اور حجامت کے برابر بھی خون نہیں بہائے گا، میں اب جو کچھ جانتا ہوں وہ اس وقت بھی جانتا تھا کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ تھے کہ کوئی صبح کے وقت مسلمان ہو گا اور رات کے وقت مسلمان نہیں ہو گا اور مسلمانوں سے برسرپیکار ہو گا اور اگلے دن اسے خدا قتل کر دے گا۔

کہتے ہیں:ابوثور سے کہا: شايد ایسا ہی ہو.

کہا: نهیں! خدا کی قسم! ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔

جب سعيد بن عاص کو وہاں سے نکال دیا گیا تو وہ عثمان کے پاس واپس چلا گیا اور ابوموسیٰ کو كوفه کی قیادت و امارت کے لئے بھیجا تو اسے قبول کر لیا.

واقد بن عبداللَّه کہتے ہیں:فتنہ کے دن عبداللَّه بن عمير اشجعى نے مسجد میں کھڑے ہو کر کہا:اے لوگو! خاموش ہو جاؤ ، میں نے پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم سے سنا تھا کہ آپ کہہ رہے تھے:جو کوئی بھی قیام کرے اور لوگوں کا کوئی امام ہو، خدا کی قسم! آپ نے یہ نہیں کہا کہ عادل ہو ، تو جو بھی ہو اس کا خون بہا دو۔

طلحہ نے کہا:جب یزید بن قیس نے لوگوں سے سعید بن عاص کے خلاف مدد مانگی تو عثمان کی سختی درمیان میں آ گئی اور قعقاع بن عمر اس کی طرف گیا اور اسے پکڑ کر کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تم مجھے کام سے برخاست کر سکتے ہو؟

کہا: نهیں،لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے؟

کہا: نهیں.

کہا: پس پھر تم استعفیٰ دے دو.

پھر یزید وہاں موجود اپنے ساتھیوں کو لے کر چلا گیا اور سعید کو دوبارہ وہاں سے نکال دیا، پھر ابوموسیٰ کو طلب کیا اور عثمان نے ان لوگوں کے لئے یوں لکھا:

خدائے رحمن و رحیم کے نام سے؛ امّا بعد! تم نے جسے چاہا میں نے اسے تمہارا امیر قرار دے دیا اور تم لوگوں سے سعید کو دور رکھا، خدا کی قسم! میں تمہارے پاؤں میں کرا اور تمہارے سلسلہ میں صبر سے کام لیتا رہا اور تمہاری اصلاح میں کوشاں رہا، خدا کی معصیت کے سوا جو کرنا چاہو کرو، اور تم لوگ جو چیز پسند نہیں کرتے اس سے معاف ہو۔ اگر خدا کی معصیت کا باعث نہ بنے تو تم جو چاہو وہی کروں گا تا کہ تم لوگوں کے پاس میرے خلاف کوئی حجت نہ ہو.(2897)


2897) تاريخ طبرى: 2209/6.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

بازدید : 718