(2)
شهرت کا کافی ہونا
شرعی احکام اور فقہی مسائل سیکھنے کے لئے بعض خارجی موضوعات میں شہرت کافی ہونا بہترین امور میں سے ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ موضوعات خارجی کے ثبوت کے متعلق کچھ حدود موجود ہیں، ان تمام میں یا ان میں سے اکثر میں بینہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن (موضوعات خارجی میں) کچھ امور کے ثبوت میں صرف شہرت ہی کافی ہے کہ جن میں بینہ لانے یا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثلاً کوئی انسان زمین خریدے اور اس کے بعد اسے یہ کہا جائے کہ یہ زمین وقف تھی۔ امام علیہ السلام سے اس مسئلہ کے حکم کے بارے میں سوال ہوا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر لوگوں میں یہ مشہور تھا کہ یہ زمین وقف ہے تو اسے خریدنا جائز نہیں، اور وہ زمین واپس کر دے۔منیٰ و مشعر کی حدود بھی اسی طرح ہیں (یعنی منیٰ و مشعر کی حدود شہرت کے ذریعہ ثابت ہوتی ہیں) اور مقابر( قبروں)کا حکم بھی یہی ہے ممکن ہے کوئی دو سو سال پہلے کہیں دفن ہو اور اب وہاں کوئی ایسا شخص دکھائی نہ دے جو یہ کہے کہ فلاں شخص یہاں دفن ہوا تھا، لیکن لوگوں میں یہ مشہور ہو کہ اس جگہ فلاں شخص مدفون تھا تو یہ شہرت کافی ہے۔
اس رو سے حضرت رقیہ بنت الحسین علیہما السلام کا مقام و مزار بھی ابتداء سے ہی مشہور تھا ، گویا امام حسین علیہ السلام نے اپنی ایک نشانی یادگار کے طور پر شام میں چھوڑ دی تا کہ کل کو کوئی شخص ایسا شخص پیدا نہ ہو جائے کہ جو خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کی اسارت اور ان حوادث کا انکار کر دے۔ یہ کم سن بچی بہت بڑی گواہ ہے کہ اسیروں میں حتی ایک کم سن بچی بھی تھی۔ ہم بھی اسی کے ملتزم ہیں کہ اس مقام پر حضرت رقیہ علیہا السلام کے دفن کے متعلق شہرت قائم ہے،حضرت رقیہ علیہا السلام اس مقام پر شہید ہوئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔ ہمیں ان کی زیارت کے لئے جانا چاہئے اور احترام کی پاسداری کرنی چاہئے( یہ نہ کہیں کہ وہ کم سن اور ایک بچی تھی) علی اصغر علیہ السلام بھی تو شیر خوار تھے، لیکن ان کا وہ عظیم مقام ہے کہ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا میں دفن ہوئے۔ کہا گیا ہے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ حضرت علی اصغر علیہ السلام اس لئے دفن ہیں کہ روز محشر سید الشہداء علیہ السلام اس بچہ (حضرت علی اصغر علیہ السلام) کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر دکھائیں گے۔ اور شام میں اس کمسن بچی ( حضرت رقیہ علیہا السلام) کا دفن ہونا خاندان عصمت وت طہارت علیہم السلام کی قید و اسارت اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم کی بہت بڑی دلیل ہے، وہ ظلم و ستم کہ جن پر آدم سے خاتم تک تمام نبیوں نے گریہ کیا یہاں تک کہ خدا نے آدم کے لئے عزائے امام حسین علیہ السلام بیان کی۔ اس لئے اس مقام و مکان کا احترام لازم ہے۔ فاسد باتوں پر غور نہ کریں اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رقیہ علیہا السلام کمسن بچی تھی، ان کی ان باطل باتوں کو نہ سنیں ۔ کیا علی اصغر علیہ السلام شیر خوار نہیں ہیں کہ جو روز قیامت شاہد ہوں گے اور شیعیوں کے گناہوں کی بخشش کا موجب ہوں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس بناء پر ہم سب پر واجب ہے کہ ہم اس مکان (محل دفن حضرت رقيه عليها السلام) کا حترام کریں اور فاسد و بیہودہ باتیں نہ سنیں کہ جو شیاطین کے گمراہ کرنے کی وجہ سے ہیں۔ ہم خداوند متعال سے امام حسین علیہ کی بیٹی (جناب رقیہ علیہا السلام) کی زیارت سے تقرب خداوند متعال کا تقرب حاصل کرتے ہیں، امام حسین علیہ السلام کی وہ بیٹی جو مظلوم تھی اور جس کا خاندان بھی مظلوم تھا (725).(726)
725) مقدس ميرزا جواد تبريزى قدّس سرّه کے دروس سے اقتباس: 159.
726) زيارت عاشورا فراتر از شبهه: 77.
منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات: ص 1525








