امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
مغیرہ کی نظر میں معاویه بدترین شخص

مغیرہ کی نظر میں معاویه بدترین شخص

مغیرہ واضح طور پر معاویہ کو سب سے بدترین اور ناپاک ترین لوگوں میں شمار کرتا تھا اور اسی لفظ سے اس کی توصیف بیان کرتا تھا۔

زبیر بن بکار اپنی کتاب «الموفّقیات» میں کہتے ہیں: میں نے مدائنی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ مطرف بن مغیرہ بن شعبہ نے نقل کیا ہے:

میرے والد (مغیرہ) ہمیشہ معاویہ کے پاس جاتے اور اس سے بہت میل جول رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ ہمارے سامنے معاویہ کی عقل اور ذہانت کی تعریف کرتے اور اس کی چالاکی پر حیرت کا اظہار کرتے تھے، یہاں تک کہ ایک رات وہ معاویہ کے محل سے واپس گھر آئے۔

اس رات میں نے انہیں بہت غمگین اور افسردہ دیکھا، یہاں تک کہ انہوں نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔ میں کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا اور سوچا شاید ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔ میں نے ان سے کہا: بابا! آج رات آپ اتنے غمگین اور پریشان کیوں ہیں؟ کیا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے؟

اس نے کہا: آج رات میں سب سے بدترین انسان کے پاس سے آ رہا ہوں۔

میں نے پوچھا: کیا واقعہ ہے؟

میرے والد نے کہا: ہم معاویہ کے ساتھ تنہائی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے اس سے کہا: اے امیرِ مؤمنین! اب آپ کا دور ہے اور آپ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں، تو کیا بہتر نہیں کہ آپ عدل  و انصاف کریں اور نیکی کو پھیلائیں، کیونکہ اب آپ عمر کے اس حصے میں ہیں؟ کیا بہتر نہیں کہ آپ اپنے بنی ہاشم کے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں؟ اس وقت ان کی طرف سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

معاویہ نے کہا: افسوس! افسوس! وہ تیمی بھائی (ابوبکر) حکومت میں آیا اور اس نے عدل کیا اور اس نے یہ یہ کام کئے ، لیکن جب وہ مر گیا تو اس کا نام بھی ختم ہو گیا، سوائے اس کے کہ کوئی کہے: ابوبکر۔

اس کے بعد بنی عدی (عمر) میں سے ایک شخص حکومت میں آیا، اس نے دس سال کوشش کی اور محنت کی، تمام فتوحات اور زحمات کے باوجود، جب وہ مر گیا تو اس کا نام بھی ختم ہو گیا، سوائے اس کے کہ کوئی کہے: عمر۔

اس کے بعد اس نے کہا: پھر ہمارے بھائی عثمان نے حکومت حاصل کی، حالانکہ نسب کے لحاظ سے اس جیسا کوئی نہیں تھا! اس نے اپنی پوری کوشش کی، لیکن جب وہ فوت ہوا تو اس کا نام بھی ختم ہو گیا، اور اس کے ساتھ عثمان کے بارے میں جو واقعات (قتلِ عثمان) پیش آئے تھے وہ بھی ختم ہو گئے۔

لیکن اس ہاشمی (یعنی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا نام ہر روز پانچ مرتبہ پکارا جاتا ہے، جب کہا جاتا ہے: “أشهد أن محمدًا رسول الله”۔ تو آخر کس کا اثر اور کس کا نام باقی رہے گا اور کس کا کام یاد رکھا جائے گا؟

پھر معاویہ نے کہا: اے بی مادر! جب ہم مٹی میں چلے جائیں گے تو بس ختم ہو جائیں گے۔[1]

لہٰذا معاویہ بنیادی طور پر آخرت اور قیامت پر یقین نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ سمجھتا تھا کہ کوئی قیامت نہیں ہے، اور اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ دینِ محمدی کو جڑ سے ختم کر دیتا۔

معاویہ نے بدھ کے دن جمعہ کی نماز پڑھائی، اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ وہ  جمعہ کا دن بھول گیا تھا، بلکہ اس لئے کہ وہ لوگوں کا امتحان لینا چاہتا تھا اور دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کیا ردِ عمل دیتے ہیں۔

گربه مسکین اگر پر داشتی         تخم گنجشک از زمین برداشتی

مسعودی کہتے ہیں: معاویہ نے سن ۴۴ ہجری میں زیاد بن ابیہ (زیاد بن عبید) کو اپنے ساتھ ملا لیا، اور یہ واقعہ تاریخ میں “استلحاق” کے نام سے مشہور ہوا۔

وہ مزید کہتے ہیں: زیاد کی ماں ’’ سمیہ ‘‘طائف کی مشہور بدکردار عورتوں میں سے تھی۔ اس کے گھر کے دروازے پر ایک پرچم نصب ہوتا تھا، اور وہ حارث بن کلدہ (عرب کے مشہور طبیب) کو بھی بدکاری کے عوض رقم دیا کرتی تھی۔ وہ طائف میں اس محلے میں رہتی تھی جہاں بدکار عورتیں آباد تھیں، اور یہ جگہ قلعے کے باہر واقع تھی، جسے«کوی فاحشگان»  یعنی “محلۂ بدکاراں” کے نام سے جانا جاتا تھا۔

جیسا کہ ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ نے نقل کیا ہے  کہ معاویہ کے اس دعوے کی وجہ یہ تھی کہ جب سَہل بن حنیف کو فارس سے نکال دیا گیا تو حضرت علی علیہ السلام نے وہاں کی حکومت زیاد کے سپرد کر دی۔زیاد نے مختلف گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف کر دیا اور اس طرح فارس پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے استخر کی حکومت بھی زیاد کو دے دی۔اسی دوران معاویہ نے زیاد کو دھمکی دی۔ معاویہ کے عامل بسر بن ارطاة نے زیاد کے دو بیٹوں، عبیداللہ اور سالم کو یرغمال بنا لیا اور زیاد کو خط لکھا کہ اگر وہ معاویہ کی طرف نہ آئے اور اس کی اطاعت قبول نہ کرے تو وہ اس کے بیٹوں کو قتل کر دے گا۔

معاویہ نے اس اقدام کو روک دیا اور زیاد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے پاس آ جائے۔[2]

زیاد معاویہ کے پاس گیا اور مال و زر کے عوض اس سے صلح کر لی۔ اس کے بعد معاویہ نے اس سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ ہم پیمان ہو جائے ، لیکن زیاد نے اس سے انکار کر دیا۔[3]

 


[1] ۔ مروج الذهب ومعادن الجوهر، ابوالحسين على بن حسين مسعودى ، ترجمه پاينده :۲ /۴۵۳- ۴۵۴.       

[2] ۔ امیر المؤمنین علیہ السلام کی شہادت کے بعد زياد بن ابيه معاويه کے پاس گیا.

[3] ۔ مروج الذهب:۲ /۱۱- ۱۲.                                      

بازدید : 2