زیاد کی معاویه سے دشمنی اور اس کا انجام
زیاد بن ابیہ، جو زیاد بن عبید کے نام سے معروف تھا، عبید ایک ثقیف قبیلے کے شخص کا غلام تھا۔ اس نے سمیہ کے ساتھ نکاح کیا، جو حارث بن کلدہ کی کنیز تھی۔ حارث بن کلدہ نے سمیہ کو آزاد کر دیا۔ اس کے بعد سمیہ نے عبید کے لئے زیاد کو جنم دیا، اور اس طرح زیاد غلامی سے آزاد ہوا۔
زیاد ایک ذہین، فصیح، زیرک اور ادیب نوجوان کے طور پر پروان چڑھا۔ مغیرہ بن شعبہ نے جب عمر بن خطاب کی طرف سے بصرہ کی حکومت سنبھالی تو وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا اور اسے اپنا کاتب مقرر کیا۔
جب امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام خلیفہ بنے تو انہوں نے زیاد کو فارس کا گورنر مقرر کیا۔ جب حضرت علی علیہ السلام صفین کی طرف روانہ ہوئے تو معاویہ نے زیاد کو خط لکھا اور اسے وعدہ و وعید دیا ۔
زیاد لوگوں کے درمیان کھڑا ہوا اور کہا: جگر خوار عورت کے بیٹے اور نفاق و دوغلے پن کے سردار نے مجھے خط لکھا ہے اور مجھے دھمکایا ہے، حالانکہ میرے اور اس کے درمیان رسول خدا ﷺ کے چچا زاد بھائی (حضرت علی علیہ السلام) اور نوے ہزار مکمل مسلح افراد موجود ہیں جو سب ان کے شیعہ ہیں۔ خدا کی قسم! اگر معاویہ میری طرف آیا تو وہ مجھے سخت شمشیر زنی کرنے والا پائے گا۔
جب امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام شہید ہو گئے اور معاملات معاویہ کے لئے ہموار ہو گئے تو زیاد شہر استخر میں پناہ گزین ہو گیا۔ معاویہ نے اسے امان نامہ لکھا کہ وہ اس کے پاس آ جائے، اور اگر وہ معاویہ کی جانب سے پیشکش کی جانے والی اس چیز پر راضی ہو جائے اور اس کے ساتھ تعاون کرے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے واپس اسی قلعے میں بھیج دیا جائے گا جہاں وہ پناہ لئے ہوئے ہے۔
زیاد معاویہ کے پاس آیا اور اس کا مقام بلند ہو گیا۔ معاویہ نے دعویٰ کیا کہ وہ ابو سفیان کا بیٹا ہے۔ اس بارے میں زمانۂ جاہلیت میں طائف میں مشہور شراب فروش ’’ابو مریم سلولی‘‘ نے گواہی دی کہ حارث ثقفی کے سمیہ کو آزاد کرنے کے بعد ابو سفیان نے اس سے تعلق قائم کیا تھا۔
اسی طرح بنی مصطلق کے یزید نامی ایک شخص نے بھی گواہی دی کہ اس نے ابو سفیان کو یہ کہتے سنا کہ زیاد اُس نطفے سے ہے جو اس نے سمیہ کے رحم میں ڈالا تھا۔ اس طرح معاویہ کا یہ دعویٰ ثابت کر دیا گیا۔[1]اور پھر وہی ہوا ، جو ہوا۔
پھر معاویہ نے زیاد کو حکم دیا کہ وہ کوفہ جائے اور اس کے حکم کا انتظار کرے۔ زیاد کوفہ چلا گیا، اس وقت وہاں مغیرہ بن شعبہ گورنر تھا۔ زیاد سلیمان بن ربیعہ باہلی کے گھر میں ٹھہرا، اور اسی دوران اسے معاویہ کا خط ملا جس میں اسے بصرہ کی حکومت دی گئی تھی، چنانچہ وہ بصرہ چلا گیا۔
جب زیاد بصرہ پہنچا تو وہ جامع مسجد کے منبر پر گیا۔ خدا کی حمد و ثنا کے بعد اس نے کہا: بیشک میرے اور بعض لوگوں کے درمیان کچھ پرانی دشمنیاں تھیں جنہیں میں نے سب ختم کر دیا ہے، اور میں کسی ایسے شخص کا مؤاخذہ نہیں کروں گا جس نے میرے ساتھ دشمنی کی ہو۔ نہ ہی میں کسی کا پردہ چاک کروں گا، جب تک وہ خود اپنی حقیقت میرے سامنے ظاہر نہ کرے۔ لیکن اگر کوئی ایسا کرے گا تو میں اسے کوئی مہلت نہیں دوں گا۔تم میں سے جو نیک ہے وہ اپنی نیکی میں اضافہ کرے، اور جو گناہگار ہے وہ اپنے گناہ سے باز آ جائے۔ خدا تم پر رحم کرے، اطاعت اور فرمانبرداری کے ذریعے ہماری مدد کرو۔یہ کہہ کر وہ منبر سے نیچے اتر آیا۔
زیاد دو سال تک بصرہ میں رہا، یہاں تک کہ مغیرہ بن شعبہ ہلاک ہو گیا۔ پھر معاویہ نے اسے بصرہ اور کوفہ دونوں کی حکومت کا فرمان جاری کیا اور اس کے بعد زیاد کوفہ چلا گیا۔[2]








