امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
معاویہ کی طرف زیاد کو منسوب کرنے میں مغیرہ کا کردار

معاویہ کی طرف زیاد کو منسوب  کرنے میں مغیرہ کا کردار

مغیرہ بن شعبہ نے زیاد سے کہا: چھوٹے معاملات کو چھوڑ دو اور اصل کام کی طرف توجہ کرو۔ اس وقت حسن بن علی علیہما السلام کے سوا خلافت کا کوئی دعویدار نہیں، اور وہ بھی معاویہ سے صلح کر چکے ہیں۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ حکومت مکمل طور پر مستحکم ہو، اپنا حصہ حاصل کر لو۔

زیاد نے اس سے پوچھا: تمہارے خیال میں میں کیا کروں؟

مغیرہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ تم اپنا نسب اس (معاویہ) سے جوڑ دو، اور اس کے ساتھ اپنی ڈور مضبوط کر لو، اور لوگوں کی باتوں کی پروا نہ کرو۔

اس کے بعد زیاد ،معاویہ کی بہن جویریہ کے گھر گیا۔ وہ ننگے سر زیاد کے سامنے آئی اور اس سے کہا: تم میرے بھائی ہو۔ جویریہ نے یہ کام معاویہ کے حکم پر کیا تھا۔

پھر معاویہ، زیاد کے ساتھ مسجد گیا، اور لوگ جمع ہو گئے۔

معاویہ کے کہنے پر ابو مریم سلولی ( جو زمانۂ جاہلیت میں طائف کا شراب فروش تھا اور بعد میں مسلمان ہو گیا تھا) نے یہ گواہی دی:ایک دن ابو سفیان میرے پاس آیا اور کہا: اے ابو مریم! کیا تمہارے پاس کوئی بدکار عورت ہے؟

میں نے کہا: میرے پاس صرف سمیہ ہے، جو حارث بن کلدہ کی کنیز ہے۔

ابو سفیان نے کہا: اگرچہ وہ بدبودار اور گندی ہے، پھر بھی اسے میرے پاس لے آؤ۔

اس وقت زیاد نے کہا: اے ابو مریم! آہستہ بولو، تمہیں گواہی دینے کے لئے بلایا گیا ہے نہ کہ گالی دینے کے لئے۔

ابو مریم نے کہا: اگر مجھے معاف کر دیا جاتا تو بہتر تھا، لیکن میں وہی کہوں گا جو میں نے دیکھا ہے۔

پھر وہ دونوں کمرے میں چلے گئے۔ زیاد نے کہا: عبید میرے لئے اچھا مربی اور مناسب سرپرست تھا، اور گواہ جو کچھ کہتے ہیں وہ بہتر جانتے ہیں۔

اس وقت زیاد کا بھائی یونس بن عبید کھڑا ہوا اور کہا: اے معاویہ! رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فیصلہ فرمایا ہے کہ بچہ صاحب فراش (نکاح) کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہے؛ (الولد للفراش وللعاهر الحجر)، لیکن تم خدا کی کتاب اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی سنت کے خلاف ابو مریم کی گواہی کی بنیاد پر ابو سفیان کے زنا کے بارے میں یہ فیصلہ کر رہے ہو کہ بچہ زانی کا ہے اور صاحب فراش کے لئے پتھر ہیں!

معاویہ نے کہا: اے یونس! خدا کی قسم!اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہارے ساتھ ایسا سلوک کروں گا کہ تمہارا نام قصوں اور حکایتوں میں لکھا جائے گا۔[1]

جی ہاں! اسی طرح معاویہ نے زیاد کو اپنا بھائی بنایا اور وہ رسوا ہو گیا۔ اس معاملے پر شاعروں نے بہت سے اشعار کہے، ان میں سے عبدالرحمن بن حکم کہتا ہے:معاویہ بن حرب کے لئے یمن کے لوگوں کی طرف سے پیغام پہنچاؤ۔ تم اس بات پر کیوں ناراض ہوتے ہو کہ تمہارا باپ پاک دامن تھا، اور کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ کہا جائے کہ تمہارا باپ زناکار تھا؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ تمہارا زیاد کے ساتھ رشتہ ایسا ہی ہے جیسے ہاتھی کا گدھے کے بچے کے ساتھ ہوتا ہے۔[2]

* * *

معاویہ نے زیاد کو اپنا بھائی قرار دے کر اس کے لئے اہلبیت علیہم السلام کے شیعوں اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھیوں کو قتل کرنے کا راستہ کھول دیا۔

 


[1] ۔ مروج الذهب : ۲/ ۱۱ـ ۱۲.                                      

[2] ۔ مروج الذهب : ۲/  ۱۲.                                        

بازدید : 1