حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
معاویہ کا امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی سخاوت، فصاحت اور شجاعت کا اعتراف کرنا

معاویہ کا امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی سخاوت، فصاحت اور شجاعت کا  اعتراف کرنا

علامہ ابن عساکر نے سند کے ساتھ ابواسحاق سے روایت نقل کی ہے کہ ابن اجور تمیمی معاویہ کے پاس آیا اور کہا:

یا أمیرالمؤمنین!! جئتک من عند ألئم الناس وأبخل الناس و أعیا الناس وأجبن الناس !!!

اے امیرالمؤمنین! میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے زیادہ کم ظرف، سب سے زیادہ تنگ نظر، سب سے زیادہ بخیل، سب سے زیادہ کند زبان اور سب سے زیادہ بزدل ہے۔

اس کی مراد امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام تھے۔

 پھر معاویہ نے اس سے کہا:

ویلک وأنّی أتاه اللئوم ، ولکنّا نتحدّث أن لو کان لعلی بیت من تبن و آخر من تِبر، لأنفذ التبر قبل بیت التبن . وأنّی أتاه العی وإن کنّا لنتحدّث أنّه ما جرت المواسی علی رأس رجل من قریش أفصح من علی . ویلک وأنّی أتاه الجبن وما برز له رجل قطّ إلّا صرعه ، والله یابن أجور؛ لولا أنّ الحرب خدعة لضربت عنقک (کذا) أُخرج فلاتقیمنّ فی بلدی. [1]

بطور خلاصہ معاویہ نے اس سے کہا : افسوس ہے تم پر! کم ظرفی کجا اور علی کجا؟ اگر علی کے پاس ایک گودام بھوسے کا ہو اور ایک گودام سونے  کا، تو وہ بھوسے کا گودام دینے سے پہلے سونے کا گودام عطا کر دے۔ قریش میں کسی شخص کے سر پر استرا نہیں پھیرا گیا جو فصاحت و بلاغت میں علی سے بڑھ کر ہو۔ افسوس ہے تم پر!کب خوف نے علی کا پیچھا کیا؟ حالانکہ بہادروں کا بہادر بھی علی کے مقابلے میں آیا تو اس نے اسے پچھاڑ کر ہلاک کر دیا۔ اے ابنِ اجور! خدا کی قسم، اگر یہ نہ ہوتا کہ جنگ دھوکے اور تدبیر کا نام ہے تو میں تیری گردن مار دیتا۔ اب فوراً یہاں سے نکل جا اور میرے شہر میں قیام نہ کرنا۔ [2]، [3]

 


[1] ۔ تاريخ دمشق ، بخش امام على علیه السلام : ۳/۷۶،شماره ۱۱۰۹.

[2] ۔ شرح نهج البلاغة : ۱/۲۵ـ ۲۴، ۶/ ۲۷۹.

[3] ۔ الإمام اميرالمؤمنين على علیه السلام از ديدگاه خلفاء: ۲۰۴.

مراجعین : 1