امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
مالک اشتر کے خطبہ کے بارے میں معاویه کے اعترافات

مالک اشتر کے خطبہ کے بارے میں معاویه  کے اعترافات

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ جب معاویہ کے جاسوسوں نے یہ خبر پہنچائی کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے مالک اشتر کو مصر کا گورنر مقرر کر کے وہاں بھیجا ہے، تو اس نے مصر کے محصول وصول کرنے والے  قلزم[1] کے عامل کو حکم دیا کہ وہ مالی معافیت اور بعد میں وصول ہونے والے محصولات کے بہانےمالک اشتر کو مصر کے مرکز تک پہنچنے سے پہلے ہی قتل کروا دے۔

اس عامل نے بظاہر حضرت علی علیہ السلام اور مالک اشتر سے دوستی کا اظہار کیا اور ان کی خوب آؤبھگت کی، لیکن آخرکار اس نے زہر آلود شہد کے ذریعے مالک اشتر کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد مالک اشتر کا وہ عہدنامہ بعینہ معاویہ کے پاس بھیج دیا  کہ جو درحقیقت امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی طرف سے اسلامی حکومت کا ایک جامع دستور تھا اور مصر میں نافذ کرنے کے لئے انہیں دیا گیا تھا ۔

جب معاویہ نے اس دستور کو پڑھا اور اس کا مطالعہ کیا تو اسے علم و حکمت سے بھرپور، اعلیٰ ترین قانونی اصولوں پر مشتمل اور مملکت داری کے نہایت اہم نکات پر مبنی پایا۔ وہ حیرت زدہ رہ گیا اور اس کے چہرے پر اس تحریر کو حاصل کرنے اور محفوظ رکھنے کی شدید خواہش اور تعجب ظاہر ہوا۔

ولید بن عقبه بھی اس مجلس میں موجود تھا، اس نے مالک اور امیر المؤمنین علیہ السلام کی طرف سے بھیجے گئے خطوط اور دیگر دستاویزات جلانے کی تجویز پیش کی۔

معاویہ نے کہا: بس کرو، زیادہ تیزی نہ دکھاؤ، تمہاری رائے قابلِ قبول نہیں ہے۔

ولید نے کہا: کیا صحیح رائے یہ ہے کہ یہ اعلان کیا جائے کہ ایسی چیزیں ہاتھ آ گئی ہیں، تاکہ لوگ جان لیں کہ ابوتراب (امیر المؤمنین علی علیہ السلام) کی احادیث اور تحریریں تمہارے پاس ہیں اور تم ان سے علمی اور حکومتی فائدہ اٹھا رہے ہو؟!

معاویہ نے کہا: افسوس ہے تم پر؛ کیا تم حکم دیتے ہو کہ میں اس طرح کے علمی آثار اور اسناد کو جلا دوں؟

واللہ ما سمعت بعلم هو أجمع منه و لا أحکم.

 خدا کی قسم! میں نے ایسا جامع اور حکیمانہ علم نہیں سنا جو ان آثار اور تحریروں سے زیادہ جامع اور پختہ ہو۔

ولید نے کہا: اگر تم علی کے علمی اور قضائی مقام سے اس قدر حیران ہو تو پھر تم نے ان کے خلاف جنگ اور قتل و قتال کیوں کیا؟

معاویہ ،امیر المؤمنین علیہ السلام سے پہلے کے حکمرانوں کے بارے میں کچھ بحث مباحثہ کرنے کے بعد خاموش ہوگیا اور کہا: مجھے چھوڑ دو کہ میں مالک کے عہدنامے پر غور و فکر کروں، کیونکہ میں نے نہ کوئی ایسا علم پڑھا ہے اور نہ کوئی ایسی تحریر دیکھی ہے جو اس سے زیادہ جامع اور حکیمانہ ہو، اور نہ ہی کوئی ایسی دستاویز دیکھی ہے جو آداب، قضایا، احکام اور سیاست کے حوالے سے اس قدر بامعنی اور محتویٰ کے لحاظ سے بھرپور ہو۔[2]

اب معاویہ کے طرفداروں کو چاہئے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ اس نے خود امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے اسلامی حکومت کے منشور اور مالک اشتر کو قتل کرنے کے منصوبے کے بارے میں کیا اعتراف اور رائے دی،وہ مالک اشتر جو مصر میں اس حیرت انگیز منشور کو نافذ کرنے کے لئے پہلے مأمور تھےتاکہ وہ ایک طرف امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو ان کی علمی خصوصیات، ہمہ جہت حکومتی صلاحیت اور خلافت میں دوسروں پر ان کی برتری کے ساتھ پہچان سکیں، اور دوسری طرف معاویہ کے جرائم اور اس کی فکری و عملی گمراہیوں سے مزید  آگاہ ہو جائیں۔[3]

مالک، شافعی، سعید بن منصور بن شعبہ مروزی، عبدالرزاق اور بیہقی نے سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے: ایک شامی شخص جس کا نام جبیر تھا، اس نے ایک آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا اور اسے قتل کر دیا۔ جب اس معاملے میں قصاص یا خون بہا کے فیصلے کے لئے معاویہ کے پاس رجوع کیا گیا تو معاویہ اس مسئلے کو حل کرنے سے قاصر تھا اور مجبور ہو کر اس نے ابو موسیٰ اشعری کو خط لکھ کر اس سے درخواست کی کہ وہ یہ مسئلہ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام سے پوچھے۔

پس جب ابو موسیٰ اشعری ، امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس گیا اور خط کا مضمون پیش کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ایسا واقعہ ہمارے علاقوں میں نہیں ہوا۔ مجھے بتاؤ اصل معاملہ کیا ہے؟

ابو موسیٰ نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ معاویہ نے مجھے خط لکھا ہے کہ یہ مسئلہ آپ سے پوچھا جائے۔

امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

أنا ابوالحسن القرم.

 میں ابو الحسن قرم [4]ہوں۔

اس شخص کو چاہئے کہ مقتول کی مکمل دیت ادا کرے، مگر یہ کہ وہ چار گواہ پیش کرے جو یہ ثابت کریں کہ مقتول  کےواقعی اس کی بیوی کے ساتھ تعلقات تھے ۔ (اس صورت میں نہ قصاص ہوگا اور نہ دیت)۔ [5]

ابن شہر آشوب کی روایت میں وارد ہوا ہے: اگر زانی کی بیوی موجود ہو تو قاتل پر کچھ لازم نہیں، کیونکہ اس نے ایسے شخص کو قتل کیا ہے جس کا قتل زنا محصنہ کی وجہ سے واجب تھا۔[6]،[7]

 


[1] ۔ قدیم مصر کے شمالی علاقے میں واقع ایک مقام، جو مصر سے حجاز جانے والے بحری جہازوں کی گزرگاہ تھا۔

[2] ۔ شرح ابن ابى الحديد: ۶/ ۷۲ ـ ۷۴.

[3] ۔ الإمام اميرالمؤمنين على علیه السلام از ديدگاه خلفاء: ۲۱۱.

[4] ۔ ابن اثير کے مطابق قرم سے مراد وہ شخص ہے جو اظهار نظر  اور رائے کے صدور میں دوسروں پر مقدم ہو ۔  (نهاية :۴ /۴۸ کلمہ،  قرم).

[5] ۔ موطأ مالك : ۲ /۱۱۷، دوسری چاپ میں: ۲ /۱۲۶، كتاب الأقضية ، مسند شافعى :۲۰۴ كتاب الجائر والحدود، سنن بيهقى :۸ /۲۳۰ دوسرے طریق سے:۲۳۷ ، تیسرے طریق سے :۱۰/۱۴۷، كنز العمال متّقى هندى :۱۵ /۸۳ ـ۸۴ ، شافعى ، عبدالرزاق ، سعيد بن منصور اور بيهقى سے منقول.

[6] ۔ مناقب :۱/ ۵۰۷.

[7] ۔ الإمام اميرالمؤمنين على علیه السلام از ديدگاه خلفاء: ۲۱۰.

بازدید : 389