امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
بنی عباس کا لشکرِ فخّ کے ساتھ جنگ سے پہلے اپنی خیانت کا اعتراف

بنی عباس کا لشکرِ فخّ کے ساتھ جنگ سے پہلے اپنی خیانت کا اعتراف

( جس میں انہوں نے اپنی حکومت کے باطل ہونے کا اقرار کیا)

حسن بن محمد نے اپنی سند کے ساتھ ابو العرجاء جمّال سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: موسیٰ بن عیسیٰ نے مجھے بلایا اور کہا: اپنے اونٹ حاضر کرو۔

راوی کہتا ہے: میں گیا اور اپنے سو اونٹ اس کے پاس لے آیا۔ موسیٰ نے حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں پر مہر لگا دی جائے، اور مجھ سے کہا: اگر ان میں سے ایک بال بھی کم ہوا تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔

پھر وہ حسین بن علی (صاحبِ فخ) کے خلاف جنگ کے لئے روانگی کی تیاری کرنے لگا، اور ہم اس کے ساتھ ہی تھے یہاں تک کہ بنی عامر کے باغات تک پہنچے۔ وہاں اس نے قیام کیا اور مجھ سے کہا: جاؤ اور حسین بن علی اور ان کے لشکر کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کرو اور مجھے اطلاع دو۔

میں گیا اور حسین بن علی کے لشکر کے اطراف کا جائزہ لیا۔ میں نے ان کے ساتھیوں میں کسی قسم کی گھبراہٹ یا کمزوری نہیں دیکھی۔ میں جہاں سے بھی گزرا، میں نے ایسے افراد دیکھے جو نماز میں مشغول تھے، یا خدائے  بے نیاز کے حضور گریہ و زاری اور مناجات کر رہے تھے۔ کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے قرآن اپنے سامنے کھول رکھا تھا اور اس میں نظر جمائے ہوئے تھے، اور بعض اپنے ہتھیاروں کو تیار کر رہے تھے۔

جب میں نے وہ منظر دیکھا تو واپس موسیٰ کے پاس گیا اور اس سے کہا: جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے، وہی غالب آئیں گے!

اس نے سختی سے مجھے کہا: اے حرام زادے! تم نے انہیں کس حال میں دیکھا؟

میں نے جو کچھ دیکھا تھا، اس کے سامنے بیان کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ اس نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور اس قدر رویا کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ ان سے جنگ کرنے کا ارادہ ترک کر دے گا۔ پھر اس نے میری طرف دیکھ کر کہا:

خدا کی قسم! یہ لوگ خدا کے نزدیک ہم سے زیادہ معزز ہیں، اور جو کچھ ہمارے پاس ہے(یعنی حکومت و خلافت) وہ ہم سے زیادہ اس کے حقدار اور اہل ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ بادشاہت بانجھ ہوتی ہے (یعنی اقتدار کسی کو شریک نہیں کرتا)اور پھر اس نے کہا:۔

ولو أنّ صاحب هذا القبر - يعنى النبيّ‏ صلّى الله عليه وآله وسلم - نازعنا الملك، لضربنا خيشومه بالسيف۔

اگر  یہ صاحب قبر- یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  - بھی ہم سے حکومت کے معاملے میں نزاع اور اختلاف کرے، تو ہم اس کی بھی ناک تلوار سے کاٹ دیں گے!”

پھر اس نے کہا: اے غلام! طبل جنگ بجاؤ۔ اور اس حکم کے بعد وہ ان کی طرف روانہ ہو گیا۔  خدا کی قسم! وہ ان سے جنگ کرنے سے باز نہ آیا۔[1]

 


[1] ۔ ترجمۀ مقاتل الطالبیین : ۴۳۶.

بازدید : 12