امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امیرالمؤمنین علیه السلام کا عام لوگوں کے لئے اپنے اسرار بیان نہ کرنا

امیرالمؤمنین علیه السلام کا عام لوگوں کے لئے اپنے اسرار بیان نہ کرنا

یہ روایت ان موارد میں سے ایک ہے جن میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ وہ بہت سے نشانیاں، عجائبات اور معجزات اس لئے بیان نہیں کرتے کہ اگر انہیں لوگوں کے سامنے ظاہر کیا جائے تو وہ نہ صرف انہیں قبول نہیں کریں گے بلکہ ان کا انکار  کریں گے۔

لیکن آخرکار جب پوری کائنات میں ایک عظیم تبدیلی واقع ہوگی تو انسان ایک نئی معرفت اور نئے شعور کے لئے تیار ہو جائے گا۔ اس پُرشکوہ زمانے میں انسان پوری طرح ان عظیم رازوں اور نکات کو قبول کرے گا جو اس کے دل پر الہام ہوں گے۔

یہ حیرت انگیز تبدیلی صرف انسانوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ حیوانات اور جمادات بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اس سلسلے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے اس فرمان پر غور کریں:

کتاب «منتخب البصائر» میں لکھا ہے: میں نے ایک کتاب دیکھی جس میں ہمارے مولا حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے خطبات جمع کئے گئے تھے۔ انہی میں سے ایک خطبے کے آخر میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے حضرت مہدی ارواحنا فداه کے ظہور کے زمانے کی طرف اشارہ کیا اور  فرمایا:...

ثمّ یسیر إلی مصر فیصعد منبره فیخطب الناس ، فتستبشر الأرض بالعدل، وتعطی السماء قطرها، والشجر ثمرها، والأرض نباتها، وتتزین لأهلها، وتأمن الوحوش حتّی ترتعی فی طرق الأرض کأنعامهم ، ویقذف فی قلوب المؤمنین العلم ، فلا یحتاج مؤمن إلی ما عند أخیه من علم .

(جب حضرت ظہور فرمائیں گے…) وہ مصر کی طرف تشریف لے جائیں گے، وہاں کی جامع مسجد میں داخل ہو کر منبر پر بیٹھیں گے اور لوگوں کے لئے خطبہ ارشاد فرمائیں گے۔ پھر جلد ہی زمین کو عدل کی خوشخبری دی جائے گی اور آسمان اپنی برکت والی بارش نازل کرے گا۔درخت پھل دینے لگیں گے، زمین اپنی سبزیاں اور پیداوار لوگوں کے لئے ظاہر کرے گی، اور زمین اپنے رہنے والوں کے لئے زینت سے بھر جائے گی۔ لوگ درندوں سے امان میں ہوں گے، یہاں تک کہ راستوں میں وہ مویشیوں کی طرح بے خوف چرنے لگیں گے۔ مؤمنین کے دلوں میں علم و معرفت القا کی جائے گی، یہاں تک کہ ایک مؤمن اپنے بھائی کے علم کا محتاج نہیں رہے گا۔

اس دن اس آیتِ کریمہ کی تأویل پوری طرح ظاہر ہوگی، جس میں ارشاد ہوتا ہے :

یغْنِ اللهُ کلاًّ مِنْ سَعَتِهِ. [1]

خدا ان میں سے ہر ایک کو اپنے فضل اور کرم سے بے نیاز کر دے گا۔

زمین اپنے خزانے ظاہر کر دے گی اور حضرت امام مہدی علیہ السلام فرمائیں گے:

كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ. [2]،[3]

کھاؤ،پیئو، تمہیں مبارک ہو، یہ اُن اعمال کے بدلے میں ہے جو تم نے پچھلے زمانوں میں انجام دیئے تھے۔

 

 

 


[1] ۔ سورۂ نساء ، آیت: ۱۳۰۔

[2] ۔ سورۂ حاقہ ، آیت: ۲۴۔

[3] ۔ قطره‌اى از درياى فضائل اهل بيت علیهم السلام:۲ /۷۸۴،بحار الأنوار سے منقول:۵۳/۸۵ اور ۸۶،ح ۸۶۔

بازدید : 10