عدل و انصاف اور امن قائم کرنے کا دعویٰ
تاریخ میں بہت سے ایسے افراد گزرے ہیں جو اقتدار تک پہنچے اور انہوں نے معاشرے کی اصلاح اور اس کی پاکیزگی کا دعویٰ کیا، لیکن یہ دعوے زیادہ تر محض دعوے ہی رہے اور کبھی حقیقت کا روپ اختیار نہ کر سکے۔
کبھی بھی ایسا زمانہ نہیں آیا جب دنیا مظلوموں، محروموں اور ستم زدہ لوگوں سے خالی رہی ہو۔ یہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اب تک کوئی بھی حکومت دنیا میں مکمل طور پر عدل اور امن کو قائم نہیں کر سکی۔
چونکہ مظلوموں اور محروموں کا وجود اس بات کی علامت ہے کہ کوئی حقیقی مصلح اور اصلاح کرنے والی حکومت موجود نہیں، اس لئے عدل قائم کرنے والی حکومت کے لازمی تقاضوں میں یہ بھی شامل ہے کہ معاشرے میں کوئی مظلوم باقی نہ رہے۔
لہٰذا مصلح عالم حضرت بقیة الله الأعظم ارواحنا فداه کی حکومت وہ واحد حقیقی اصلاحی اور عالمی حکومت ہوگی کہ جس میں زمین کے کسی بھی گوشے میں کوئی مظلوم یا ستم دیدہ انسان باقی نہیں رہے گا۔ کیونکہ تمام مظلوم افراد عدل کے قیام کے ذریعے اپنا حق حاصل کریں گے، اور دنیا بھر کے ستم دیدہ لوگ ظلم و ستم سے نجات پا کر امام عصر عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عادلانہ اور امن پر مبنی حکومت کے سائے میں مکمل راحت، امن اور آسودگی سے زندگی گزاریں گے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام ’’نهج البلاغه‘‘ میں ملک کی اصلاح کو اس صورت میں ممکن قرار دیتے ہیں کہ معاشرے کے مظلوم افراد امن میں ہوں اور ظالموں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہیں۔ لہٰذا معاشرے میں امن کا وجود اصلاحی حکومت کی بنیادی شرائط میں سے ہے، اور ہر وہ حکومت جو اصلاح کی خواہاں ہو، اسے چاہئے کہ مظلوموں اور ستم زدہ افراد کو عادلانہ حکومت کے سایہ میں امن فراہم کرے۔
امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیه السلام فرماتے ہیں :
أللّهمّ إنّا أردنا... أن نظهر الإصلاح فی بلادک فیأمن المظلومون من عبادک. [1]
اے خداوند! ہم نے ارادہ کیا ہے کہ تیرے شہروں میں اصلاح کو ظاہر کریں، تاکہ تیرے بندوں میں سے مظلوم افراد کو امن حاصل ہو جائے۔
لہٰذا مظلوموں اور ستم دیدہ افراد کا امن میں آنا ایک اصلاح کرنے والی حکومت کے وجود پر منحصر ہے، ورنہ معاشرے میں مظلوم اور ستم دیدہ افراد کا وجود اسی طرح باقی رہتا ہے۔








