امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امیرالمؤمنین علیه السلام اور آپ کے شیعوں کے دشمن

امیرالمؤمنین علیه السلام اور آپ کے شیعوں کے دشمن

شیعوں کے مرجع اور حوزۂ علمیہ نجف کے سربراہ مرحوم آیت‌الله العظمی سید محسن حکیم قدّس سرّه  کی ایک سفر کے دوران سعودی عرب میں ایک مجلس میں  اس وقت کے مفتی “بن باز” سے ملاقات ہوئی جو نابینا تھے ۔

بن باز بظاہر آیت‌الله حکیم کی ملاقات کے لئے آیا تھا، لیکن درحقیقت وہ مناظرے اور وہابی افکار پیش کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے گفتگو کے دوران آیت‌الله حکیم سے سوال کیا: آپ شیعہ قرآن کے ظاہری معنی پر کیوں عمل نہیں کرتے؟

آیت‌الله حکیم نے جواب دیا: یہ ملاقات اس قسم کی بحث کے لئے مناسب نہیں، بہتر ہے کہ یہ ملاقات صرف احوال پرسی تک محدود رہے۔

لیکن بن باز نے اصرار کیا اور جواب کا مطالبہ کیا۔ اس پر آیت‌الله حکیم نے فرمایا: اگر ہم قرآن کے ظاہری مفہوم ہی کو معیار بنا لیں اور اسی پر عمل کریں تو پھر  ہمارے لئے یہ عقیدہ رکھنا لازم ہو گا کہ آپ جہنم میں جائیں گے!

بن باز نے تعجب سے پوچھا: کیوں؟

آیت‌الله حکیم نے فرمایا:کیونکہ قرآن میں ارشاد ہے:

ومن کان في هذه أعمى فهو في الآخرة أعمى وأضلّ سبیلا ۔[1]

جو شخص اس دنیا میں (حق کو دیکھنے کے اعتبار سے) اندھا ہو، وہ آخرت میں بھی اندھا اور زیادہ گمراہ ہوگا۔

اور چونکہ آپ دونوں آنکھوں سے نابینا ہیں، اس آیت کے ظاہری مفہوم کے مطابق لازم آتا ہے کہ آپ آخرت میں بھی اندھے ہوں گے اور گمراہوں میں شامل ہوں گے جو جہنمی ہیں۔ لہٰذا قرآن کی بہت سی آیات کا صرف ظاہری مطلب مراد نہیں ہوتا۔

بن باز نے کہا تھا: اگر حضرت علی (علیہ السلام) میری آنکھوں کو شفا بھی دے سکتے ہوں تو میں نہیں چاہوں گا  کہ یہ آنکھیں بینا ہوں۔

ان وہابی مفتیوں کے دل میں اہلبیت علیہم السلام  کے لئے اتنی زیادہ نفرت ہے ۔ اور آپ دیکھیں کہ خدا نے انہیں کس حال تک پہنچا دیا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بن باز نے کہا تھا: میں نے ۴۰ سال مدینۂ منورہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھی، لیکن میں نے ابھی تک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کو سلام نہیں کیا۔

سعودی عرب کی “اعلیٰ افتا کمیٹی” نے ایک سوال کے جواب میں فتویٰ جاری کیا کہ ان شیعہ افراد کے ساتھ میل جول، آمد و رفت اور شادی بیاہ کا کیا حکم ہے جو زمین سے اٹھتے وقت “یا علی، یا حسین” کہتے ہیں؟

فتویٰ میں کہا گیا کہ اگر حقیقت یہی ہے کہ وہ علی، حسن ، حسین (علیہم السلام) اور اسی طرح دیگر شخصیات کو پکارتے ہیں تو وہ شرک اکبر کے مرتکب ہیں، دینِ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں۔ اس بنا پر مسلمانوں کی عورتوں کا ان سے نکاح اور ان کی عورتوں کا مسلمانوں سے نکاح جائز نہیں، اور ان کا ذبیحہ کیا ہوا گوشت بھی حلال نہیں ہے۔

یہ فتویٰ سعودی ’’اعلیٰ افتا کمیٹی‘‘ کے چار اراکین کے دستخط سے جاری ہوا، جن میں کمیٹی کے سربراہ عبدالعزیز بن عبدالله بن باز تھے۔

بن باز کے بارے میں یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ اس نے کہا تھا: اگر حضرت علی (علیہ السلام) میری آنکھوں کو شفا بھی دیں تو میں نہیں چاہوں گا کہ میری آنکھیں بینا ہوں۔

اسی طرح شیعہ اور سنی اختلافات کے بارے میں اس سے سوال کیا گیا کہ اس کے نزدیک شیعہ اور اہلسنت  کو قریب لانے کے بارے میں اس کی کیا رائے ہے تو  اس نے ایک اپنے مخصوص انداز میں اس اختلاف کو بیان کیا۔

(مجموع فتاوی ومقالات لابن باز ج ۵ ص ۱۵۶)۔شیعہ اور اہلسنت کوقریب لانا ممکن نہیں؛ کیونکہ ان دونوں کے عقائد ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہیں اور ان کے درمیان باہمی اتحاد ممکن نہیں ہے ، اسی طرح جیسے اہلسنت کو یہود و نصاریٰ اور بت پرستوں کے ساتھ ایک جگہ جمع نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح شیعہ اور اہلسنت کے درمیان عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے انہیں بھی قریب لانا ممکن نہیں ہے۔

اسی طرح حالیہ برسوں میں مکہ اور مدینہ کے حکمرانوں کی سرپرستی میں “مسألة التقریب” کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی، جس میں شیعوں کے ساتھ وحدت اور تقریب کی پہلی شرط یہ قرار دی گئی ہے کہ پہلے شیعہ کا مسلمان ہونا ثابت کیا جائے!!!

کتاب “مسألة التقریب بین أهل السنّة والشیعة” ڈاکٹر قفاری کے ماسٹرز کے تحقیقی مقالے پر مشتمل ہے، جو سعودی عرب میں متعدد بار شائع ہو چکی ہے۔ مزید معلومات کے لئے اس کتاب کے پانچویں ایڈیشن  کی دوسری جلد کے صفحہ۲۵۳  ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

مدینۂ منورہ کے بڑے علماء میں سے ’’عبد العزیز قاری‘‘ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ آج ہم ایک مشترکہ دشمن کا مقابلہ کر رہے ہیں، جو تین زاویوں پر مشتمل ہے: امریکہ، یہود اور روافض (شیعہ)۔ اور عراق اور لبنان کے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ ان دشمنوں کا اصل ہدف اہلسنت و الجماعت ہیں، لہٰذا ہمیں ان کے مقابلے میں متحد ہونا چاہئے۔

یہاں تک کہ انہوں نے کہا: جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اہلسنت ایک ہی مذہب رکھتے ہیں، انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ ائمہ اربعہ  کے عقیدے کو اہلسنت و الجماعت کے دائرے سے خارج کر دیا جائے، ورنہ یہ چاروں فقہی مذاہب معاشرے میں گمراہی کا ذریعہ بن جائیں گے۔[2]،[3]

 


[1] ۔سورۂ اسراء، آیت:۷۲.

[2] ۔ جریدة الرسالة - الجمعة ۷رجب ۱۴۲۶ھ، الموافق۱۲  اگست ۲۰۰۵ء.

[3] ۔ ویب سائٹ مشرق نیوز.

بازدید : 17