امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امام حسن علیه السلام کا روم کے بادشاہ سے مناظرہ

امام حسن علیه السلام  کا روم کے بادشاہ سے مناظرہ

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ جب رومی بادشاہ تک امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور معاویہ بن ابی سفیان کا خط پہنچا اور اسے خبر ملی کہ ان دونوں کی طرف سے دو سفیر اس کے پاس آ رہے ہیں تاکہ ان خطوط کے بارے میں گفتگو کریں، تو بادشاہ نے پوچھا: یہ دونوں کس طرف سے آئے ہیں؟

اسے بتایا گیا: ایک کوفہ سے اور دوسرا شام سے ہے۔

بادشاہ نے اپنے وزیروں سے کہا: دیکھو! کیا عرب کے تاجروں میں سے کوئی ان دونوں کو پہچانتا ہے؟

چنانچہ شام اور مکہ کے دو تاجروں کو بلایا گیا۔ بادشاہ نے ان سے ان دونوں سفیروں کے بارے میں سوال کیا، اور انہوں نے ان کی صفات بیان کیں۔

پھر بادشاہ نے اپنے خزانے کے نگہبانوں سے کہا: میرے لئے مجسمے لاؤ۔

وہ مجسمے لائے گئے۔ بادشاہ نے انہیں غور سے دیکھا اور کہا: شامی گمراہ ہے، اور کوفی ہدایت یافتہ ہے۔

پھر رومی بادشاہ نے معاویہ کے نام لکھا:اپنے خاندان میں سے سب سے زیادہ دانا شخص کو میرے پاس بھیجو۔ اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے نام بھی خط لکھا کہ اپنے اہلبیت میں سے سب سے افضل اور زیادہ علم رکھنے والے شخص  کو بھیجو تاکہ میں دونوں کی باتیں سنوں، انجیل میں دیکھوں، اور تمہیں بتاؤں کہ تم میں سے خلافت کا زیادہ حق دار کون ہے۔

معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو بھیجا، جبکہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کو بھیجا ۔

جب یزید بادشاہ کے پاس پہنچا تو بادشاہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کے چہرے کو بوسہ دیا، اور یزید نے بھی بدلے میں بادشاہ کے سر کو بوسہ دیا۔

اس کے بعد امام حسن علیہ السلام داخل ہوئے اور فرمایا:تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے یہودی، نصرانی، مجوسی، سورج پرست، چاند پرست، بت پرست، گائے پرست اور مشرکوں میں سے نہیں بنایا، بلکہ مجھے مسلمان بنایا۔پھر آپ اپنی جگہ پر بیٹھ گئے اور اپنی اوپر کی طرف دیکھا ۔

روم کے بادشاہ نے دونوں کی طرف دیکھا اور پھر انہیں ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ سب سے پہلے اس نے یزید کو بلایا اور تین سو تیرہ صندوق منگوائے جن میں انبیاء کی نشانیوں کے حوالہ سے  مجسمے موجود تھے۔

پھر اس نے ایک مجسمہ نکالا اور یزید کو دکھایا، لیکن یزید اسے نہ پہچان سکا۔ اسی طرح اس نے ایک اور مجسمہ دکھایا، مگر یزید کسی کی بھی شناخت نہ کر سکا اور جواب دینے سے عاجز رہ گیا۔

اس کے بعد بادشاہ نے اس سے “روزِ قیامت کے احوال” اور “مرنے کے بعد مؤمنوں اور کافروں کی روحوں کے ٹھکانے” کے بارے میں سوال کیا، لیکن یزید ان میں سے کسی سوال کا بھی جواب نہ دے سکا۔

اس کے بعد رومی بادشاہ نے امام حسن بن علی علیہما السلام کو بلایا اور کہا: میں نے پہلے یزید بن معاویہ سے آغاز کیا تاکہ وہ جان لے کہ تم اس علم سے واقف ہو جس سے وہ بے خبر ہے، اور تمہارے والد اس علم سے واقف ہیں جس سے اس کا باپ لاعلم ہے۔ بے شک تمہارے والد اور اس کے والد پہلے ہی پہچانے جا چکے ہیں۔ میں نے انجیل میں دیکھا تو پایا کہ محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   اللہ کے رسول ہیں اور ان کے وزیر علی علیہ السلام ہیں۔ اور جب میں نے اوصیاء کو دیکھا تو پایا کہ تمہارے والد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے وصی ہیں۔

پھر امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: تمہارے ذہن میں جو کچھ  آئے، ان علوم کے بارے میں مجھ سے سوال کرو، جو انجیل، تورات اور قرآن میں موجود ہیں۔

اس پر بادشاہ نے مختلف مجسمے امام کے سامنے پیش کئے۔ سب سے پہلے ایک مجسمہ پیش کیا جو چاند کی شکل کا تھا۔ امام نے فرمایا: یہ مجسمہ حضرت آدم ابوالبشر کی صفت بیان کرتا ہے۔

پھر ایک اور مجسمہ لایا گیا جو سورج کی شکل کا تھا۔ امام  نے فرمایا: یہ مجسمہ حضرت حوا اُم البشر کی صفت بیان کرتا ہے۔

پھر ایک اور نہایت خوبصورت اور دلکش مجسمہ پیش کیا گیا۔ امام نے فرمایا: یہ مجسمہ حضرت شیث بن آدم کی صفت بیان کرتا ہے۔

اسی طرح بادشاہ مسلسل مجسمے پیش کرتا رہا اور امام ان سب کی حقیقت اور ان کی نسبت بیان فرماتے رہے۔

آخر میں رومی کے بادشاہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں، اے اہلبیتِ محمد!آپ کو  اولین و آخرین کا علم، تورات، انجیل، زبور، صحفِ ابراہیم اور موسیٰ کا علم یکجا عطا کیا گیا ہے۔

اس طویل گفتگو کے بعد یزید خاموش اور غمگین بیٹھ گیا۔ بادشاہ نے امام حسن علیہ السلام کو انعام دیا اور ان کی خاص عزت افزائی کرتے ہوئے کہا: اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی آپ کے نبی کا دین نصیب فرمائے۔

پھر اس نے یزید بن معاویہ کو اس کے والد کے پاس واپس بھیج دیا اور معاویہ کے نام ایک خط لکھا:جس شخص کو خدا نے تمہارے نبی کے بعد علم عطا کیا ہے اور اسے تورات، انجیل، زبور، فرقان اور ان تمام کتب کے علوم سے آگاہ کیا ہے، حق اسی کے ساتھ ہے اور نبی کی خلافت اسی کے لئے مخصوص ہے۔

پھر اس نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے نام خط لکھا: بیشک حق اور خلافت تمہارے لئے ہے، اور نبوت کی روشنی تم میں اور تمہارے فرزند میں ظاہر ہے۔ پس اس سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرے۔ خدا تمہارے دشمن کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا اور اسے ہمیشہ کے لئے جہنم میں داخل کرے گا۔ میں نے انجیل میں تمہارے دشمن کا نام نہیں پایا۔ اس پر خدا کی لعنت ہو ، اور اس پر فرشتوں، آسمان و زمین کے تمام باشندوں کی لعنت بھی ہو۔[1]

 


[1] ۔ تفسیر قمی:۵۹۵، بحارالانوار:۱/۲۳۱، فرهنگ کوثر شماره ۸۲سے مأخوز.

بازدید : 13