امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
تشیع کے خلاف تین ممالک کے بجٹ کے برابر اخراجات

تشیع کے خلاف تین ممالک کے بجٹ کے برابر اخراجات

سعودی عرب کے بادشاہ کے پوتے نے وزارتِ اطلاعات میں موجود ایک شعبے “روافض” کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس کا بجٹ تیونس، اردن اور یمن کے مجموعی بجٹ کے برابر ہے۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بکاؤ شیعہ علماء کو بھاری رقوم دی جاتی ہیں تاکہ تشیع کی چہرے کو مسخ کیا جا سکے۔

مشرق” کی رپورٹ کے مطابق “رسا” کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ترکی بن بندر بن محمد بن عبدالرحمن آل سعود، جو سعودی بادشاہ کا پوتا اور سعودی رژیم کا مخالف ہے اور اس وقت پیرس میں مقیم ہے، نے ایک ہفتہ وار نشست میں شرکت کی جس میں ثقافتی شخصیات، دانشور، سیاستدان اور صحافی موجود تھے۔

اس نے وہاں وہابیت کے عقائد کو شیعہ مکتب کے مقابلے میں باطل قرار دیا اور آلِ سعود کے نظام پر سخت تنقید کی۔

اس نے کہا: شیعہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے ذریعے خدا  کا قرب حاصل کرتے ہیں، جبکہ سلفی گروہ شیعوں کے قتل کے ذریعے شیطان کے قریب ہوتے ہیں، اگرچہ وہ خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خدا  کا قرب حاصل کر رہے ہیں۔

ترکی بن بندر نے مزید کہا کہ شیعہ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے، جبکہ سلفی رجحان رکھنے والے لوگ “قتل و کشتار” جیسے بڑے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں، جس سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔ ان کے مطابق سلفیوں کو اہلبیت علیہم السلام کے پیروکاروں کو قتل کرنے کا کوئی حق نہیں، کیونکہ ان کے درمیان صرف فکری اختلاف ہے ۔

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے سابق رکن نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے درباری علماء نے اس پر کفر کا الزام لگایا اور کہا: پہلے میں سنتا تھا کہ شیعہ حضرات کو اس وجہ سے کافر کہا جاتا ہے کہ وہ ابوبکر، عمر اور عثمان کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے، لیکن اب مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جو بھی سیاسی حکمران کی مخالفت کرتا ہے اسے درباری علماء کی طرف سے کافر قرار دے دیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابوبکر، عمر اور عثمان سیاسی حکمران تھے، اور ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ ان کے بارے میں اپنی مخالفت کا اظہار کرے، کیونکہ یہ اظہارِ رائے کی آزادی کی اعلیٰ شکل ہے۔ ان کے مطابق شیعہ حضرات کو “رافضہ” کا لقب بھی اسی اختلاف کی بنیاد پر دیا گیا ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ شیعہ کسی واضح غلطی کے مرتکب نہیں ہوئے۔

ترکی بن بندر آل سعود نے سعودی عرب کی وزارتِ اطلاعات میں موجود ایک خصوصی شعبے “روافض” کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کا بجٹ تیونس، اردن اور یمن کے مجموعی بجٹ کے برابر ہے۔ ان کے مطابق اس شعبے کا کام تشیع کے چہرے کو خراب کرنا ہے، جس کے لئے حج کے ایّام میں جھوٹی معلومات پر مشتمل کتابیں تقسیم کی جاتی ہیں، اور بعض اوقات شیعہ مخالف اور حتیٰ کہ تشدد پر اکسانے والی مہم بھی چلائی جاتی ہیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ اطلاعات کے سابق رکن نے مزید کہا کہ جب وہ اس وزارت میں کام کر رہے تھے تو اس نے دیکھا کہ ایک لبنانی شیعہ عالم دین کو، جو ان کے بقول آلِ سعود کا “کارندہ” تھا، ۷ ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی۔ اس کے بدلے اس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک سیٹلائٹ چینل اور اخبار قائم کرے اور اس کے ذریعے شیعہ عقائد پر تنقید کرے، عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کو بدعت قرار دے، عمر بن خطاب کو حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی شہادت کے واقعہ سے بری الذمہ ثابت کرے، آیت لا تقربوا الصلاة وأنتم سکاری کو حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام کےلئے قرار دے،اور اذان سے “أشهد أنّ علیّاً ولی الله” کو حذف کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عالم کی وفات کے بعد بھی نئے افراد نے اسی مشن کو جاری رکھا اور آج بھی عراق میں شیعہ مذہب کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق یہ تمام کوششیں بے فائدہ ہیں اور صرف ناواقف افراد ہی ان کی حمایت کرتے ہیں۔

 ترکی بن بندر نے آخر میں کہا: میں مستقبل قریب میں فرانسیسی شہریت حاصل کر لوں گا اور پارلیمانی انتخابات میں امیدوار کے طور پر حصہ لوں گا، کیونکہ سعودی عرب ایک پسماندہ ملک ہے جو ایک ایسے گروہ کے زیرِ انتظام ہے جس کے حکمران نماز کے وقت کے علاوہ چوبیس گھنٹےشراب نوشی میں مشغول رہتے ہیں، عوام کے مال و دولت کو لوٹتے ہیں اور اسے رقاص عورتوں اور قاتل مردوں کو بطور تحفہ دیتے ہیں۔[1]

 


[1] ۔ ویب سائٹ مشرق نیوز.

بازدید : 43